Post Ke Phool !

پوست کے پھول!
اعجاز منگی


فیض احمد فیض نے اپنی کتاب ’’ماہ سال آشنائی‘‘ میں فرانسیسی مفکر سارتر سے ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سارتر نے مجھ سے کہا کہ ’’مشرقی معاشرہ بھیانک جنگوں سے دوچار نہیں ہوا۔ اس لیی وہاں عظیم ادب کی تخلیق نہیں ہوسکتی‘‘
پھر بھی نہ معلوم کیوںفیض نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا کہ:
’’درد اور جنگ میں کوئی میل نہیں ہے اے دل!‘‘
جب کہ مغرب کے اس ادب کی حیثیت کلاسک ہو گئی جو جنگ کے پس منظر میں دردِ محبت کے ساتھ لکھا گیا۔
اس حوالے سے روسی ادب تو طویل راتوں میں روتے ہوئے دل کے ساتھ پڑھنے جیسا ہے۔ لیکن ’’جنگ کے دوراں محبت‘‘ کے موضوع میں وہ جادو ہے جو امریکہ کے مشہور مصنف ہیمنگوے کی تصانیف کو بھی لازوال بنا گیا۔
اور نہ صرف وہ ناول اور افسانے جو اس موضوع پر لکھے گئے لیکن وہ فلمیں بھی بار بار دیکھنے جیسی تھیں جن میں دورانِ جنگ محبت داستان بیان کی گئی۔ ایسی فلموں میںصوفیہ لارین کی فلم ’’سن فلاور‘‘ کو کون فراموش کر سکتا ہے؟
وہ فلم جس کے پوسٹر پر لکھا تھا کہ:
’’A woman born for love.
A man born to love her.
A timeless moment in a
world gone mad. ‘‘
یعنی’’ایک عورت نے جنم ہی اس لیی لیا تاکہ وہ چاہی جائے۔
ایک مرد جوپیدا ہی اس لیی ہوا کہ اس عورت سے پیار کرے۔
وقت کی قید سے آزاد ایک لمحہ
جب یہ دنیا پاگل ہو چکی تھی‘‘
ایسے اشتہاری الفاظ والی فلمیں اب نہیں بنتی۔ وہ ایک دور تھا جب سینما گھروں کے سلور اسکرین پر ’’دی وے وئی ور‘‘ ’’بن حر‘‘ ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ ’’لاسٹ ٹینگو ان پیرس‘‘ جیسی فلمیں چل کر پورے ماحول پر سحر طاری کردیتی تھیں۔ اب تو مغرب سے ’’انٹل سیپٹیمبر‘‘ جیسی فلمیں بھی نہیں آتیں۔
مگر جب چالیس سال قبل ’’سن فلاور‘‘ رلیز ہوئی تھی تب وہ عاشقوں کے سینوں میں آگ اور آنکھوں میں پانی کا باعث بنی تھی۔
احساسات اور جذبات کا وہ موسم تو اب بیت چکا ہے؛ جس کا ایک اظہار اس اردو شعر میں ہے کہ:
’’تنہا تنہا رونے کی
رت ہے پاگل ہونے کی‘‘
لیکن آج بھی آنکھیں موند کر اطالوی پس منظر میں بنی ہوئی اس فلم کو یاد کیا جائے تو ’’گیوانا ‘‘ نامی اس لڑکی کا چہرہ آنکھوں میں بھر جاتا ہے؛ جو اٹلی سے یہ عزم لیکر چلتی ہے کہ وہ اپنے اس گمشدہ محبوب کو تلاش کرکے رہے گی؛ جو دورانِ جنگ روس میں کھو گیا تھا۔گیوانا کو سب نے سمجھایا کہ وہ جنگ میں مرچکا ہے مگر اس کو ایک اطالوی فوجی بتاتا ہے کہ ہم ایک محاذ پر تھے اور تمہارا محبوب وہاں زخمی ہوا تھا۔ لیکن اس کا دل کہتا ہے کہ ’’انتونیو زندہ ہے‘‘
اس طرح گوانا صرف ایک تصویر کے ساتھ ماسکو اسٹیشن پر اترتی ہے اور راہ چلتے ہوئے ہر شخص کو وہ تصویر دکھا کر پوچھتی ہے کہ’’کیا تم اسے جانتے ہو؟‘‘اورہر کوئی اس کو نفی میں جواب دیتا آگے بڑھ جاتا ہے۔
آج مجھے برسوں پہلے دیکھی ہوئی وہ فلم ان روتے ہوئے برطانوی فوجیوں کی تصویر دیکھ کر یاد آئی ہے؛ جو افغانستان میں مارے گئے۔
ویسے تو ان حالات میں انسان کو فیض احمد فیض کی یہ رائے درست لگتی ہے کہ:
’’درد اور جنگ میں کوئی میل نہیں ہے‘‘
لیکن دل تو دل ہے۔وہ دل جس کے لیی ایک عینیت پرست فلسفی نے کہا تھا کہ’’دل کے پاس اپنے دلائل ہوتے ہیں جو دماغ کی سمجھ میں نہیں آتے‘‘
اس دل کے ایک کونے میں ان نوجوان فوجیوں کے لیی افسوس بھی ہے جن کو اپنی حکومتیں اس عمر میں مرنے کے لیی افغانستان اور عراق بھیج دیتی ہیں؛ جو عمر مرنے کی نہیں بلکہ کسی پر مرمٹنے کی ہوتی ہے۔امریکی اور برطانوی حکومتیں دنیا اور اپنے عوام سے بہت کچھ چھپاتی ہیں۔ اور وہاں کا میڈیا اپنی حکومتوں کا وفادار کتا ہے۔ورنہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ افغانستان میں مرنے یا غائب ہونے والے فوجیوں کی کہانیوں پر کوئی ’’سن فلاور‘‘ جیسی فلم بنتی۔
جس طرح یوکرائن میں حدِ نظر تک سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت ہوتے ہیں ویسے افعانستان میں پوست کے رنگین پھول لہراتے نظر آتے ہیں۔ اگر ’’سن فلاور‘‘ جیسے تھیم والی کوئی نئی فلم افغانستان کے پس منظر میں بنتی تو اس کا نام ’’پوست کے پھول‘‘ ہی ہوسکتا ہے۔
جب روسی فوجیں افغانستان میں تھیں تب شیخ ایاز نے پوست کے پھولوں کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’اگر ان کے بیجوں سے افیم نہ بنتا تو یہ سرخ پھول کتنے خوبصورت تھے‘‘
اگر امریکی اور برطانوی فوجی افعانستان میں سامراج کے ہاتھوں کی قاتل مشینوں کی طرح آپریٹ نہیں کرتے تو ان کے حوالے سے بھی ہم بہت خوبصورت الفاظ تلاش کرتے۔مگر وہ وہاں پر ایسے عمل میں مصروف ہیں؛ جس سے ان کی خوبصورتی اس سانپ جیسی محسوس ہوتی ہے جو بل کھاکر چلتا ہے تو اس فارسی شاعر پر پیار آجاتا ہے جس نے پہلی بار محبوب کی زلف کو سانپ سے تشبیہ دی تھی۔
ذوقِ جمالیات اپنی جگہ مگر کوئی بھی شاعر کسی سانپ کو زندہ جانے نہیں دے سکتا کیوں کہ اس کو معلوم ہے کہ وہ کسی بھی معصوم کو کاٹ کر مار سکتا ہے۔
اسی طرح برطانوی فوجی بھی بہت سمارٹ اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ نوجوانی کی عمر میں ان کی موت اچھی تو نہیں لیکن افغان بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر دل سے ان کے لیی رحم کے جذبات ختم ہوجاتے ہیں۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے پیاروں کے لیی ان کے مرجانے یا غائب ہوجانے کا دکھ ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔اگر مغربی میڈیا کو اپنی ظالم حکومتوں سے زیادہ اپنے لوگ عزیز ہیں تو پھر وہ ’’پوست کے پھول‘‘ کے نام سے ’’سن فلاور‘‘ جیسی فلمیںکیوں نہیں بناتے جنہیں دیکھ کر سامراجی مفادات کی سولی پر چڑھ جانے والی جوانیوں کا احساسِ زیاں ان کی ان محبتوں کے حوالے سے کچھ اور زیادہ ہو جو محبتیں منظرِ عام پر نہیں آتیں۔کیوں کہ وہ دب جاتی ہیں ان کی ڈجیٹل ڈائریوں اور ان خطوط میں جو آخر میں ان نوجوان سپاہیوں کی محبوباؤں کے حوالے نہیں کیی جاتے۔
اگرانسانیت کے وسیع تر مفاد میں ہم سے ایسی کسی فلم کے لیی ’’ون لائن اسٹوری‘‘ کا تقاضہ کیا جاتا تو ہم ان سے کہتے کہ محبت کے موضوع پر بنی ہوئی وہ بھولی بسری فلم ’’سن فلاور‘‘ کی طرح کسی جولیٹ یا کسی میری کو دکھایا جائے جو برطانیہ سے یہ امید لیکر نکلتی ہے کہ وہ اپنے گمشدہ محبوب کو تلاش کرلے گی اور پھر وہ افغانستان کی سنگلاخ سرزمین پر بھٹکتی ہوئی ایک شام ہلمند میں کسی پوست کے کھیت میں کھڑی شفق کے شعاعوں میں شعلوں کی طرح دھکتے ہوئے پوست کے پھولوں کے پس منظر میں اڑتے ہوئے مغربی فوجیوں کے ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر ایک ایسا گیت گنگناتی ہے؛ جس گیت کا جذبہ اس نظم میں ہے جو نظم ’’سن فلاور‘‘ میں گمنام سپاہیوں کے قبرستان میں لکھی دکھائی گئی ہے۔ جس میں شاعر نے اپنوں کے پیروں کی آہٹ سے دور ایک اجنبی دھرتی میں سونے والے سپاہیوں سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ:
’’تم کہ بہتے چشموں اور بیقرار سمندر
والی سرزمین کے لوگ تھے!
تم ہمارے سرد دیس میں کیوں آئے؟
کیا تم نہیں جانتے تھے کہ
محبت کبھی مدفون نہیں ہوتی!!
کیا تمہیں نہیں پتہ کہ
گمشدہ محبت کو آنکھیں
خواب بن کر تلاش کرتی ہیں۔
اے گمنام سپاہی!
موت کے اس مورچے سے باہر نکل آؤ
اور دیکھو محبت مجاز کا لباس پہن کر
تم سے ملنے آئی ہے‘‘