Kuchli Huyi Kainatein !

کچلی ہوئی کائناتیں
اعجاز منگی


ذرا یاد کریں تو آپ کو بھی ایسا ہی لگے گا کہ بچوں کے مقابلے میں بچیوں کے نام خوبصورت ہوا کرتے ہیں۔ بچیوں کے ان خوبصورت ناموں میں ایک نام ’’کائنات‘‘ بھی ہے۔اس کا نام بھی کائنات تھا۔ وہ نام اس پر کیوں رکھا گیا؟ممکن ہے کہ جب وہ سرجانی ٹاؤن کے علائقے تیسر ٹاؤن کے باسی جاوید کے گھر میں پیدا ہوئی؛ تب اس کے والدین کو محسوس ہوا کہ انہیں ایک بچی کی صورت پوری کائنات حاصل ہوگئی ہے۔ اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ اس کی پیدائش کے وقت جب اس کے خاندان والے بہت سارے ناموں کے ساتھ اس کے گرد اکھٹے ہوئے ہوں؛ تو اس نے اپنی ننھی منی آنکھیں گھما کر اپنے دل سے ان کے دل کو کہا ہو کہ ’’مجھے کائنات بلایا کرو! کیا تمہیں میری آنکھوں میں اس کائنات کا عکس نظر نہیں آتا!؟‘‘ اور جب اس کے خاندان نے اس کی صبح کے تاروں جیسی آنکھیں دیکھی ہوں تو انہیں ان میں پوری کائنات نظر آئی ہو! رقصِ رومی کی طرح گول گھومتے ہوئے ستاروں اور سیاروں والی وہ کائنات جس کی ابتدا اور انتہا کا پتہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں!!
وہ بے کراں کائنات اس مختصر؛ محدود اور دن بہ دن تنگ اور تاریک دنیا میں ایک نئی امید کی طرح داخل ہوئی۔
وہ خدا کا مقدس پیغام بن کر اس دنیا میں آئی کہ ’’ابھی خداوند اس محفلِ ارضی کا اختتام نہیں چاہتا۔ اس لیی تمہیں اپنے انداز و اطوار تبدیل کرنے کا ایک اور موقعہ دیا جاتا ہے‘‘
مگر اس دنیا کے لوگ اس خاموش پیغام کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ وہ لوگ اس زباں کو بھول چکے تھے؛ جو الفاظ سے ماوارا ہوتی ہے۔ اس لیی کائنات نے دنیاوی تعلیم حاصل کرنا شروع کی؛ اس عزم کے ساتھ کہ وہ اس دنیا کو سمجھا پائے کہ ’’یہ ریاکاری اور تیز رفتاری چھوڑ کر ذرا آہستہ اپنی اس اصلیت کی طرف آؤ؛ جو انسانی زندگی کا حقیقی مقصد ہے‘‘
اپنی چھوٹی سی مٹھی میں اپنے رب کا یہ پیغام لیکر سڑک عبور کرنے والی اس بچی کو ایک تیز رفتار مزدا کے نیچے کچل کر مار دیا گیا۔ وہ بچی جس کا نام ’’کائنات‘‘ تھا۔
وہ ٹوٹی ہوئی گڑیا؛وہ کچلی ہوئی کائنات؛ اب اس مٹی میں دفن ہو چکی ہے اور آج اس کے دو سطروں والی چھوٹی سی خبر بھی ہزاروں خبروں کو اگلتے اور نگلتے ہوئے میڈیا کے سیلاب میں ایک پھول کی پتی کے مانند بہہ گئی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب جنگل میں کسی درخت پر بنے ہوئے گھونسلے سے کسی پرندے کا بچہ گر جاتا ہے تو پورے جنگل کا دل لرز اٹھتا ہے اور سارے جانور بیدار ہوجاتے ہیں۔ اں سب کو لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا سانحہ ہو گیا ہے مگر کراچی جنگل نہیں؛ ایک شہر ہے۔ بہت بڑا شہر! اس میں ایک تیز رفتار مزدا کے بریکوں کی آواز اور ایک معصوم بچی کی چیخ! بہت آسانی سے دب جاتی ہے۔
کائنات کی چیخ بھی اس شہر کے شور شرابے میں دب گئی۔ لوگ اطمینان کے ساتھ کیبل پر پسندیدہ چینلز دیکھتے رہے۔گاڑیوں میں ایف ایم کے گیت اور دلچسب مقالمات چلتے رہے۔ موبائل فونوں کے رنگ ٹونز بجتے رہے۔ ساری آوازیں جوں کی توں جاری رہیں۔ لیکن ایک آواز بجھ گئی۔ زندگی کی آواز موت کے سناٹے میں ہمیشہ کے لیی سوگئی۔ کسی چینل پر کوئی پٹی نہیں چلی۔ اورلوگوں نے اپنے موبائل فونوں پر آنے والے اس ’’ایس ایم ایس‘‘ کا نوٹس تک نہیں لیا؛ جس میں بتایا گیا تھا کہ’’روڈ حادثے میں ایک ہلاک۔لفٹیڈ بائی چھیپا‘‘
کاش! اس شہر کے لوگ جان سکتے کہ وہ ’’ایک ہلاک‘‘ ہونے والی بچی ’’کائنات‘‘ تھی۔ خدا کا مقدس تحفہ ! ایک الاہی پیغام!!تاریک دنیا میں ایک ننھی منی سی روشنی!!! ممکن ہے کہ اس روشنی سے یہ دنیا جگ مگا اٹھتی ۔ مگر ایک ستارہ ابھرنے سے پہلے ہی ڈوب گیا۔ وہ ستارہ ہمارے مقدر کا ستارہ بھی تو ہوسکتا تھا۔ لیکن ہم اس قسم کے خیالوں کو اپنے حریص ذہنوں میں کب داخل ہونے دیتے ہیں۔ ہمارے ذہن جو کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں سے کہیں تیز چلتے ہیں۔ کیوں کہ لالچ کی لات ان کے ایکسیلیٹرس کو پورے زور سے دبا دیتی ہے اور چند روپیی زیادہ کمانے کے چکر میں وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ٹیوشن پڑھ کر واپس آنے والی آٹھ برس کی کائنات سڑک کراس کر رہی ہے۔
پورے اخبار میں بہت بڑی خبریں موجود تھیں مگر اس دوسطری خبر نے آج کا کالم اپنے نام کرنے پر مجبور کردیا۔میں کائنات کا پورا پرفائل لکھنے کا لیی کوشش میں لگ گیا۔ میں نے یہ جاننا چاہا کہ اس معصوم بچی کی آنکھوں کا رنگ کیسا تھا؟ وہ پونی کرتی تھی یا اس کے بال بہت چھوٹے تھے؟ اس کے بھائی بہن کتنے تھے؟ اس کی سب سے پیاری دوست کا نام کیا تھا؟اس کے پاس کتنے کھلونے تھے؟ وہ اپنی گڑیا کو کس نام سے بلاتی تھی؟
لیکن انٹرنیٹ کی وسیع و عریض دنیا سے کائنات کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا۔
البتہ ایک اور کائنات کے بارے میں چند خبریں کمپیوٹر اسکرین پر نمودار ہوگئیں۔ وہ کائنات لاقانونیت کے حوالے سے شہرت رکھنے والے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی ’’کائنات سومرو‘‘ تھی۔ وہ کائنات سومرو جس کو دوسال قبل چار افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ تیرہ برس کی لڑکی انصاف کی تلاش میں ملک کے پریس کلبوں کے آگے موم بتیاں جلاتی رہی۔ اب اس ’’کائنات ‘‘ کا مقدمہ آخری مراحل میں ہے۔ ان کے روح کے قاتلوں کو کیا سزا ملتی ہے؟ ہمیں یہ دیکھنا ہے!
مگر اس سے پہلے ہم یہ تو دیکھ چکے ہیں کہ اس بے حس دنیا میں بیقصور اور معصوم کائناتوں کا حشر کیا ہو رہا ہے؟
اور ان کے ساتھ کیی جانے والے سلوک میں شہر اور دیہات کا کردار ایک جیسا ہے۔
شہر میں راستہ عبور کرنے والی ایک کائنات کو تیز رفتار مزدا کے نیچے کچل دیا جاتا ہے اور میہڑ میں ایک کائنات سومرو کا اجتماعی ریپ کیا جاتا ہے۔
اس صورتحال میں تو ہم کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے۔ ہم کس منہ سے کہیں کہ کائنات جاوید اگر شہر کے بجائے گاؤں میں پیدا ہوتی تو محفوظ رہتی!
اور ہم کس طرح امید کرتے کہ کائنات سومرو گاؤں کے بجائے شہر میں رہتی تو وہ بچ جاتی!!
ہم اس صورتحال میں ایسی کوئی امید نہیں رکھ سکتے۔ کیوں کہ جب تک اس دنیا میں حرص و حوس ہے؛ تب تک کہیں کوئی کائنات محفوظ نہیں رہ سکتی۔
شہر کائناتوں کے جسم کچلتے ر ہیںگے اور گاؤں ان کے روح!!
اس طرح کائناتیں نہ تو شہروں میں محفوظ ہیں اور نہ دیہاتوں میں!!!
پھر وہ کدھر جائیں؟
اس لیی وہ اپنے اس رب کے پاس لوٹ جاتی ہیں!
مگر کس صورت میں؟
خدا ان کو نرماہٹ اور نازکی کے ساتھ اس دنیا میں بھیجتا ہے اور یہ دنیا ان کے جسموں اور روحوں کو کچل کر ان کو واپس بھیج دیتی ہے۔
اس دنیا کو آخر کب سمجھ میں آئے گا کہ ’’خدا صرف غفور و رحیم نہیں ہے‘‘