Matabadal Media

متبادل میڈیا
اعجاز منگی


ولی رازی صاحب کا ایس ایم ایس پر لکھا ہوا کالم پڑھ کر سوچا تھا کہ اس موضوع پر کچھ بے معنی سے حروف میں بھی لکھوں گا۔ مگر کراچی میں ہونے والی اندھادھند فائرنگ کے آوازوں اور انسانی خون میں صرف انسانیت اور اخلاقی معیار ہی نہیں بلکہ میرا وہ ارادہ بھی بہہ گیا۔
لیکن آج صبح اتنے اچھے ایس ایم ایس موصول ہوئے کہ دل کے کسی کونے میں پڑے اس بھولے بسرے ارادتی بیج کے کونپل پھوٹ پڑے اور عوامی میڈیا کے اس قسم پر کچھ لکھنے کے لیی بیٹھا ہوں تو ذہن میں ان الفاظ سے سر اٹھایا ہے؛ جنہیں بہت عرصہ پہلے میں نے ’’بائبل‘‘ میں پڑھا تھا۔ اس وقت یاد نہیں آ رہا کہ یہ الفاظ کس حوالے سے تھے کہ:
’’تم میری غلطیوں کا حساب تو رکھتے ہو مگر وہ آنسو جو میں نے تمہاری یاد میں بہائے ہیں؛ کیا انہیں اپنے دفتر میں داخل نہیں کروگے!!؟‘‘
ان الفاظ کو میں ایس ایم ایس کے حوالے سے اس سوال کی صورت اٹھانا چاہتا ہوں کہ ہر میڈیا کو کسی نہ قسم کی اہمیت حاصل ہے۔ پھر چاہے وہ میڈیا مکمل طور پر سرکاری ہو یا جزوی طور پر درباری ہو یا وہ میڈیا عوامی حقوق کے حوالے سے بغاوت کے بھڑکتے ہوئے پرچم جیسا ہو لیکن افسوس کہ اب تک اس عوامی میڈیا کو آفیشلی وہ اہمیت نہیں دی گئی؛ جس میڈیا کا نام ’’ایس ایم ایس‘‘ ہے۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا اس میڈیا کے لیی یہ اعزاز کم ہے کہ وہ عوام کا دل دھڑکاتا ہے؛ وہ جو عوام کے بجھے ہوئے جذبات کو بھڑکاتا ہے؛ جو سوئے ہوئے عوام کو اگر جگاتا نہیں تو کم از کم انہیں جگانے کے سلسلے میں ارنیسٹ ہیمنگوے کے اس ناول کا اسپرٹ بن جاتا ہے؛ جس کا نام ہے
’’For Whom the Bell Tolls ‘‘ یعنی گھنٹہ کس کے لیی بج رہا ہے؟
جب میری موبائل فون کی بیل والی رنگ ٹون بجتی ہے تو مجھے ہیمنگوے کے اس ناول کا نام یاد آ جاتا ہے۔اور اس گھنٹے کے حوالے سے میری طرح کوئی کسی شک کا شکار نہیں ہوتا کہ یہ گھنٹہ کسی اور کے لیی بھی بج سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ گھنٹہ اس کے لیی بج رہا ہے۔اور اس کی آواز ہمیشہ کوئی نہ کوئی پیغام لاتی ہے۔اور اس بات کو بھی سب جانتے ہیں ہر پیغام اہم نہیں ہوتا۔ کچھ پیغامات تو بہت فضول بھی ہوتے ہیں۔ مگر ہر بہتر چیز کے ساتھ کچھ فضول کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس لیی میں اس فضولیات کا برا نہیں مانتا۔ وہ فضولیات تو چھلکے کی طرح ہیں۔ ایسا چھلکا جو کسی پھل کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر سامراج معلوم ہوتا کہ یہ میڈیا اتنا طاقتور اور اتنا عوامی ہو جائے گا تو وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے سائنسدانوں کو کبھی بھی اس پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اور اگر انہوں نے یہ میڈیم ایجاد بھی کرلیا تو وہ اس کی مارکیٹنگ کرنے نہیں دیتے۔ہمیں مشکور ہونا چاہئیی ان فضولیات کا؛ جن کے باعث آج یہ میڈیا عوام کے ہاتھ میں ہے اور روز بروز ایک طاقتور ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔اور یہ اچھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وقت کے ساتھ یہ اور زیادہ طاقتور ہونگے اور پھلے پھولیں گے۔
دراصل حکومتیں جیسی بھی ہوں؛ گوری ہوں یا کالی؛ مشرقی ہوں یا مغربی وہ عوام کو ان کی آزادی کا مکمل حق کبھی نہیں دیتیں۔ اس لیی دنیا کا کوئی بھی میڈیا مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔سوائے اس میڈیا کے جس کا نام ’’ایس ایم ایس‘‘ ہے۔انٹرنیٹ بھی اسی قسم کا میڈیا ہے لیکن چوں کہ ہماری عوامی اکثریت اس سے ابھی تک اس طرح آشنا نہیں؛ جس طرح وہ موبائل کے ایس ایم ایس سے ہے؛ اس لیی اسی میڈیا پر فوکس کر رہیں ہیں۔
وہ انگریز دانشور جس نے لکھا تھا کہ ’’اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تمہیں کیا چاہئیی؛اظہارِ آزادی کے بغیر ریاست یا ریاست کے بغیر اظہارِ آزادی؟ تو میں آخری آفر قبول کروں گا‘‘ انیسویں صدی کے دوراں اس انداز سے سوچنے والے دانشور کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اظہارِ آزادی ریاستی حدود سے ماورا ہو جائے گی۔
آج ہم اس دور میں جی رہیں ہیں جہاں عوام کے لیی اظہارِ آزادی کے سلسلے میں ایس ایم ایس میڈیا وہ کردار کامیابی سے ادا کر رہا ہے۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پوری کوشش کے باوجود بھی ایسی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پایا ہے؛ جیسی آزادی ایک عام شہری کو تقریبا مفت میسر ہے۔
جب بھی کراچی کو خون میں نہلایا جاتا ہے تو لکھنے والے سب کچھ جانتے ہوئے بھی حقیقت کے بیان کے لیی علامات کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن اس شہر کے شہری ان حقائق کو دل کی پوری تلخی کے ساتھ ایک دوسرے سے شےئر کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ شہر قائد کے قاتل میڈیا پر کیا کہتے ہیں اور حقیقت میں وہ اپنے لوگوں کو کون سے احکامات دیتے ہیں۔اس طرح عوام کا یہ میڈیا خود میڈیا کے حوالے سے بھی ’’واچ ڈاگ‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا اسلوب خشک نہیں۔ وہ بہت دلچسبی کے ساتھ حقیقت بیان کرتا ہے اور لوگوں کو باشعور بناتا ہے۔
ہماری روایتی میڈیا کے حوالے سے دانشور اس بات کی نشاندہی تنقید کی طور پر کیا کرتے تھے کہ یہ انفرمیشن تو دیتی ہے مگر عوامی شعور کو بڑھانے کے لیی انفرمیشن کافی نہیں؛ جب تک میڈیا کمیونیکیشن کا کام نہیں کرتا تب تک اس کا کردار ادھورا ہے۔ اب ایس ایم ایس میڈیا یہ دونوں کام احسن انداز سے کر ہا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ اس میں بہت ساری برائیاں بھی بہہ رہی ہیں مگر میرا یقین ہے کہ گذرتے وقت کے ساتھ اس میں بہتری پیدا ہوگی اور اس میڈیا کے ذریعے جتنی فحش حرکات کم ہوتی جائیں گی اور بہتر سوچوں کا فروغ بڑھتا جائے گا۔اس سلسلے میں ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اس میڈیا کے مثبت کردار کو مضبوط کریں اور اس کے ذریعے عوامی شعور کے پھیلاؤ میں اضافہ کریں۔اس طریقے سے ہم اس میڈیا کو اپنی اجتماعی بہتری میں استعمال سکتے ہیں جو سرکاری پابندیوں سے بلند ہوکر عوام کے متبادل میڈیا کی طور پر ابھر آیا ہے۔
میں حیران ہوں جن اچھے خیالات تک رسائی تک مجھے لائبریریوں کے چکر کاٹنے پڑتے تھے ایسے خیالات مجھے اس ماحول سے چھوٹی چھوٹی بچیاں ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجتی ہیں اور میں ان الفاظ کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ہماری نئی نسل اس میڈیا کے ذریعے نہ صرف اپنے ذہن کو بلند کر رہی ہے بلکہ وہ ایسے خیالات سے ہمارے ضمیر کو بھی بیدار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
آج اس موضوع پر میں شاید یہ کالم نہیں لکھتا اگر میری ایک بیٹی اندرونِ سندھ سے مجھے یف ایس ایم ایس ’’سینڈ‘‘ نہیں کرتی جس میں اس نے مجھے بتایا کہ :
’’اگر تم کسی مقصد کے لیی کھڑے ہونا چاہتے ہو تو پھردرخت کی طرح اکیلے کھڑا رہنے کا حوصلہ پیدا کرواور جب گرو تو بیج بن کر گروتاکہ تم زمین کے سہارے پھر پیدا ہوکر اسی مقصد کے لیی کھڑے رہ سکو‘‘
ایسے ایس ایم ایس ہمیں حوصلہ دیتے ہیں دنیا میں اچھائی کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے مگر وہ بکھری ہوئی ہے۔ چھپی ہوئی ہے۔ ہماری معلومات سے پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ عوامی میڈیا اس ٹیلنٹ کو ڈسکور بھی کر رہا ہے۔اور ہمیں بتا بھی رہا ہے کہ ’’ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے‘‘!
وہ بھی دن تھے جب ہماری راتیںاور ہماری صبحیں ایسی ہوا کرتی تھیں؛ جیسی فیض نے زندان میں بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:
’’ہر شب وہ سیاہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے
ہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے‘‘
مگر یہ میڈیا اب ہمیں مہربان انداز کے ساتھ بتاتا ہے کہ:
’’خواب اس کھڑکی کا نام ہے جس سے روح کی آنکھیں حقیقت کو دیکھ لیتی ہے۔ شب بخیر‘‘
اور صبح کو ایک مدھر آواز ہمیں جگا کر بتاتی ہے کہ:
’’خوشی تتلی کی طرح ہوتی ہے۔ اگر تم اس کا پیچھا کروگے تو شاید یہ تمہارے ہاتھ نہ آئے لیکن اگر تم خاموشی کے ساتھ ایک جگہہ رک جاؤ تو شاید یہ آکر تمہارے کندھے پر بیٹھ جائے۔ تمہارے لیی خوشیوں کی بہت ساری تتلیوں کی تمنا کے ساتھ: صبح بخیر۔