Khatak Ki Khamoshi

خٹک کی خاموشی
اعجاز منگی


آئیں اپنی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہیں جو ہم نے کل کے کالم میں بغیر نام اٹھائے اس شخص پر ختم کی جس کا نام افراسیاب خٹک ہے۔وہ سابقہ سرخا جس نے سرد جنگ کے بعد اپنے سیاسی کردار کو بجھانے کے بجائے ان خدائی خدمتگاروں کی راہ اپنائی جن کو عرف عام میں ’’سرخ پوش‘‘ کہا جاتا تھا۔سرخ پوشوں کی وہ جماعت جس کو باچا خان نے ایک خواب کی طرح اپنی آنکھوں میں بسایا تھا؛ لیکن وہ خواب ابھی تک ایک خواب ہی ہے؛ اپنی تعبیر سے بہت دور!
باچا خان کا مشن کیا تھا؟ اس سوال پر بہت بڑا اختلاف پیدا ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ انہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر اپنایا تھا اور وہ خدائی خدمت گاروں کی ایک ایسی جماعت بنانا چاہتے تھے جو لوگوں کی خدمت اس لیی نہیں کرے کہ لوگ انہیں اقتدار کی مسند پر براجمان کریں۔ دراصل باچا خان ایک ایسے پہاڑی فقیر تھے جس کے لیی راستہ ہی منزل ہوا کرتا ہے۔
’’سرحدی گاندھی‘‘ والی بات ایک اعزاز ہے یا الزام اس کا فیصلہ تاریخ کو کرنا ہے مگر ایک بات طعہ ہے کہ گاندھی کی طرح چالاک اور بدنیت شخص نہیں تھے۔وہ جو بھی کرتے تھے خلوصِ نیت کے ساتھ کرتے تھے۔انہوں نے جو سمجھا وہ کہا اور جو کہا وہ کیا۔ ایسے لوگ اس دنیا اور خاص طور پر سیاست میں بہت کم ہوتے ہیں۔انہوں نے کانگریس کی سیاست کی مگر وہ عملی مسلمان تھے ۔ اس لیی وہ اپنے لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ ’’میں تمہیں ایک ایسا ہتھیار دے رہا ہوں جس کا مقابلہ نہ تو پولیس کر سکتی ہے اور نہ فوج اس کے سامنے ٹک سکتی ہے۔ وہ ہتھیار ہمارے پیارے نبیؐ کا ہے۔ لیکن تمہیں اس ہتھیار کا علم نہیں۔ وہ ہتھیار ہے صبر اور صحیح راستہ۔اگر تم نے اس ہتھیار کو استعمال کرو گے تو دنیا کی کوئی قوت تمہارے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی‘‘یہ ان کی پرخلوص لگن تھی جس کے باعث ایک لاکھ کارکن ان کے گرد جمع ہوگئے لیکن باچا خان جیسے لوگوں کا قد کارکنوں کی تعداد ناپا نہیں جاسکتا۔ وہ اکیلے بھی ہوں تو بھی ایک قوم سے کم نہیں ہوتے۔بقول جی ایم سید انہوں نے ہر اس چیز کو اپنایا جو انہیں اچھی لگی۔ گاندھی کی دوستی سے لیکر انگریز کی دشمنی تک اور ذاتی سادگی سے لکیر لوگوں کی خدمت کرنے تک؛ انہوں نے ہر اچھی بات کو اپنا عملی اصول بنایا۔ انہوں نے مخالفوں کے الزامات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ لیکن اگر ان کو اپنے نظریات اور سیاسی عقائد سے ہٹا کر ایک انسان کے طور پر دیکھا جائے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی روح میں ایک باغی پٹھان اور درویش مسلمان تھے۔
اس لیی جب کابل سے لیکر ماسکو تک کامریڈوں کے لیی دنیا کے دروازے بند ہوگئے تو افراسیاب خٹک جرمنی یا انگلینڈ میں ٹھکانہ بنانے کے بجائے اپنے وطن لوٹ آئے اور اپنے انداز کی سیاست جب انہیں راس نہیں آئی تو انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی لیکن انہیں اس بات کا اندازہ ہونا چاہئیی کہ ایک جلاوطن شخص کے لیی آخر میں کوئی سیاسی سایہ بچا بھی تو باچا خان کا وہ پرچم جو بے رحم موسموں اور سنگ دل ہواؤں سے لڑتا ہوا ایک سپاہی کے جسم اور عاشق کی دل کی طرح تار تار ہوگیا ہے۔ لیکن اس میں آج بھی اتنی وسعت ہے کہ وہ دھوپ میں چلنے والوں کے لیی ٹھنڈا سایہ بن جاتا ہے۔ یہی سایہ کامریڈ افراسیاب خٹک کو ملا تو وہ اپنے ماضی کے دوستوں کے لیی باعث حسد بن گئے۔
اس سلسلے میں افراسیاب خٹک کو سوچنا چاہئیی کہ اگر حالات نے اسے افغانستان سے بچا کر اگر پاکستان پہنچایا ہے اور پاکستان میں ہیومن رائٹس کیمشن کی صدارت سے لیکر عوامی نیشنل پارٹی کی سرحدی قیادت تک پہنچایا ہے تو اس میں صرف ان کی خوشقسمتی کا پہلو نہیں ہے بلکہ اس میں مشیتِ ایزدی بھی پنہاں ہے۔
موجودہ حالات انہیں بہت بڑا کردار ادا کرنے کے سلسلے میں بلا رہیں ہیں۔مگر اس کے لیی انہیں اسفندیار کی طرح نہیں بلکہ باچا خان کی طرح کام کرنا ہوگا۔مجھے افراسیاب خٹک کی ذاتی زندگی کا علم نہیں مگر میں یہ جانتا ہوں کہ جیلوں اور جلاوطنیوں کے دوراں انہوں نے بہت پڑھا ہے۔وہ سادہ گفتگو کرتے ہیں اس لیی بھلے ان کے باتوں کا دائرہ بڑا دکھائی نہ دے لیکن ایک کنویں کے طرح ان میں بہت گہرائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کابل کے سرخ تخت کو ہواؤں میں لاوارث پرچم کی طرح اڑتے اور سوشلسٹ بلاک کو ٹوٹی ہوئی کشتی کے مانند بکھرتے دیکھا ہے۔ اس لیی انہیں اپنے مطالعے اور مشاہدے کے حوالے سے پاکستان کے اس سرکاری سیٹ اپ سے متاثر نہیں ہونا چاہئیی جو نازک شاخ پر بنے ہوئے آشیانے کی طرح شروع دن سے ناپائدار رہتا آیا ہے۔
وہ جدلیات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیی وہ اس بات کو مانیں گے کہ اس وقت اے این پی ایسی جماعت نہیں جیسی جماعت کا خواب باچا خان نے دیکھا تھا۔ اس جماعت کو تو اس وقت ولی خان کی جماعت کہنا بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ لیکن ماضی کے تجربات اور موجودہ حالات کو آپس میں ملا کر یہ جماعت ایک تاریخی کردار ادا کرسکتی ہے اور اس میں افراسیاب جیسے لوگوں پر بہت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف بدامنی کی آگ میں جلتے ہوئے پشتون بیلٹ کو امن کی سرزمین بنانے کے مشن میں مصروف ہوجائیں بلکہ اپنے محنت کش لوگوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔
بونیر سے لیکر بنارس تک ان کے لیی حالات نے بہت بڑا متحانی میدان بنایا ہے۔اور پشتون آبادی جو اس وقت تاریخ کے عبوری دور سے گذر رہی ہے ان کے لیی ماضی اور مستقبل کے بیچ میں ایک پل بنانے کا کام ہی ایک ایسا کام ہے جو اس خطے کے امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اس حقیقت سے کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ ’’طالبان‘‘ کا نام ایک ایسا نقاب بن چکا ہے جس کے پیچھے بہت سارے دوستوں اور دشمنوں کے چہرے چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن آبادی کی حمایت کے حوالے سے یہ نام اپنے اسپرٹ میں امن اور انصاف کا طلبگار ہے۔ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ طالبان بندوق کے ساتھ اتنی بڑی قوت نہیں ہیں؛ جتنی بڑی قوت یہ بندوق کے بغیر بن سکتے ہیں۔ اگر طالبان بندوق کو رکھ کر عدم تشدد کی راہ پر عوامی قوت بن کر آگے بڑھیں تو وہ اکیسویں صدی کا سیاسی معجزہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کیی لیی انہیں اپنے دلوں میں پرانے کے ساتھ نئے کی اور اپنے کے ساتھ پرائے کے لیی بھی ایک وسعت پیدا کرنی پڑے گی۔کیوں کہ معاشرہ اس طرح ہی قائم ہوتا ہے۔ معاشرے اور جماعت میں یہی فرق ہوتا ہے۔
وقت پہاڑ سے بہتے ہوئے چشمے کی طرح ہر موڑ پر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آج پشتون معاشرہ ویسا نہیں ہے جیسا ایک صدی پہلے تھا۔ صرف موبائل فون نے ہی پشتون معاشرے میں ایسی تبدیلیوں کا باعث بن گیا ہے؛ جس کا آج سے چار پانچ برس پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اگر اس وقت اسلام آباد اور کراچی میں پشتونوں کے نئے نسل میں موجود رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں ایک نئی دنیا نظر آتی ہے۔ لیکن اس دنیا سے لڑنا صحیح نہیں ہے۔ لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ معاشرہ متصادم انداز سے نہیں بلکہ ایک مہذب سمجھوتے سے طاقت حاصل کرتا ہے۔ لیکن پشتون معاشرے کے اقدار سے اول اس بات کی اہمیت ہے کہ ان لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جو سوات سے لیکر کراچی تک بیرونی اور داخلی سازشوں کی آگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ اس وقت کراچی کو جس ڈراؤنے ڈرامے کی اسٹیج بنایا گیا ہے اس کی ہدایت کاری لندن سے ہو رہی ہے۔ اسفند یار کو اپنی مصروفیات ہیں لیکن افراسیاب اپنے نئے پرانے تعلقات کو بروئے کار لاکر اسلام آباد میں متحدہ کے اس قاتل پالیسی کو بے نقاب کرسکتے ہیں اور پورے ملک کی پرامن سیاسی قوتوں کے اتحاد سے متحدہ کو اس کونے میں دھکیل سکتے ہیں؛ جہاں اس کی اصلیت ساری دنیا کو نظر آئے۔ کیوں کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہ صرف میکرو لیول پر ملکی سالمیت کے خلاف ایک سنگین سازش ہے بلکہ مائکرو لیول پر یہ انسانی حقوق کی انتہائی پائمالی ہے۔ اور یہ سب کچھ کافی وقت سے ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے افراسیاب خٹک اور ان جیسے افراد کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔ کیوں کہ ایسی خاموشیاں بلند صدا بن کر اعلان کرتی ہیںکہ رحمان بابا سے لیکر باچا خان تک پہاڑی فقیروں کے خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونگے۔ کیا اس چیلنج کو جواب دینے کے لیی کوئی آگے نہیں آئے گا!!؟