Gham, Gussa Aur Sanobar

غم؛ غصہ اور صنوبر
اعجاز منگی


کل کے ’’امت‘‘ میں’’23 ہلاکتوں‘‘ کے حوالے سے جو خبر ہیڈ لائن بن کر شایع ہوئی ہے؛ اس میں اتنے ہی الفاظ ہیں؛ جتنے الفاظ سے ایک جامع کالم وجود میں آتا ہے۔
مگر وہ کالم نہیں ہے۔ بس ہے ایک خبر ہے۔اکتیس ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں کے نام اور پتے بتانے والی ایک سیدھی سادھی خبر!ایک ایسی خبر جیسی خبر پر گارشیا مارکیز نے بطور ایڈیٹر اپنے رپورٹر سے کہا تھا کہ ’’اس خبر میں روح نہیں ہے‘‘ اور سول وار کی ’’بیٹ‘‘ کرنے والے رپورٹر نے بھری ہوئی آنکھوں سے سر جھکا کر جواب دیا تھا کہ ’’سر! میں ایک معمولی رپورٹر ہوں۔ میں مسیح نہیں کہ مردوں کو زندہ کرسکوں‘‘
اس رات ’’تنہا صدی‘‘ کے مصنف کو معلوم ہوا تھا کہ ’’غریبوں کی رپورٹنگ امیروں جیسی نہیں ہوتی‘‘ ایسی رپورٹنگ میں مرنے والے کا نام بھی آجائے تو بہت ہے۔پتہ بھی مل جائے اور عمر بھی معلوم ہو جائے تو بڑی بات ہے!
کراچی کا ایک کرائم رپورٹر کیا کرسکتا ہے؟وہ تھانوں ؛ مردہ خانوں اور ایمرجینسیز سے صرف تعداد اور اتے پتے ہی اکھٹے کر سکتا ہے۔ وہ یہ تو نہیں بتا سکتا کہ روٹ نمبر 4k بس کے آخری اسٹاپ پر نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے صنوبر پر کس طرح حملہ ہوا اور اس نے کس طرح جان دی؟حالانکہ وہ صنوبر کی پوری ’’بائیو ڈیٹا‘‘ حاصل کرسکتا ہے اور وہ ’’آخری اسٹاپ‘‘ کے کلچر کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ کراچی اکثر پبلک ٹرانسپورٹ کے آخری اسٹاپ شہر سے باہر ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور کچے مکانات کے ارد گردان جھونپڑا ہوٹلوں والے آخری اسٹاپ جہاں کرسیاں نہیں بلکہ چارپائیاں پڑی ہوتی ہیں اور رات کو دیر سے تھکے ہوئے ڈرائیور سر کے نیچے رومال رکھ کر مسکراتی ہوئی آنکھوں سے ستاروں کو دیکھتے ہوئے؛ ان زبانوں کے گیت گنگناتے ہیںجن زبانوں میں پہاڑی چشموں کی کھنک اور دریاؤں کی خاموشی ہوتی ہے۔
صنوبر ایک ایسے ہی آخری اسٹاپ پر مارا گیا۔بیس برس کا نوجوان صنوبر! جو کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ اس قوم کا سرمایہ تھا؛ جو ابھی تک اس ڈرپوک ہجوم کے بطن سے پیدا بھی نہیں ہوئی۔اگر صنوبر کی قوم ہوتی تو وہ اس طرح قتل بھی نہیں ہوتا اور اگر اتفاق سے ایک بیغیرت مجرم اس کو گولی کا نشانہ بنا بھی دیتا تو ایک گھر کے چراغ گل ہونے پر ہزاروں گھروں میں عقیدت اور محبت کی شمعیں روشن ہوجاتیں۔ وہ آخری اسٹاپ ٹیوب روز کے بکیز اور گلاس کینڈلز سے بھر جاتا۔وہ متوفی نہیں بلکہ شہید قرار دیا جاتا۔مگر اس منتشر ہجوم کا اس صنوبر سے کوئی تعلق نہیں جو ایک خوبصورت شجر کے نام والا تھا۔اس منتشر ہجوم کو کوئی احساس نہیں کہ انسان تو دھرتی پر اتری ہوئی خدا کی امانت ہے جب کہ مہذب قومیں تو درختوں کے کاٹے جانے پر احتجاج کرتیں ہیں۔کیوںکہ درخت اپنے کاٹنے والے کے سر سے بھی سایہ نہیں ہٹاتے!اور یہ لوگ بیحد سکون کے ساتھ ہیں کہ صنوبر کے ساتھ ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ انہیں اطمینان ہے کہ صنوبر کے قتل میں ان کا کوئی کردار بھی نہیں۔حالانکہ یہ لوگ بہت جلد جان لینگے کہ صنوبر کے خون کے دھبے ان لوگوں کے ہاتھوں پر بھی ہیں؛ جو اپنے دامنوں کی طہارت کے قصے خود بیان کر تے ہیں۔
اس وقت صنوبر صرف ایک مقتول ہے۔ وہ کیوں قتل ہوا؟ اس کو کس نے قتل کیا؟ ہر انسان کی موت ان سوالات کو جنم دیتی ہے مگر صنوبر کے حوالے سے ان سوالات پر ایک میلی چادر پڑی ہوئی ہے۔وہ میلی چادر جو غربت کا پرچم ہوتی ہے۔ غریبوں کی فوج کا ایک شہید سپاہی؛ صنوبر۔!
وہ صنوبر جس کا نام رکھتے ہوئے؛ اس کے والدین نے سوچا ہوگا کہ جب یہ بڑا ہوجائے گا تب ہم اپنے بڑھاپے کا سفر اس کے سائے میں کریں گے۔ مگر ان کے آنکھوں کے سامنے اس صنوبر کو گولیوں سے کاٹ کر اس سرزمین پر گرادیا گیا؛ جس سرزمین کا نام کراچی ہے۔صرف یہ پیغام دینے کے لیی کہ کراچی صنوبروں کی سرزمین نہیں ہے!
لاشوں کی صورت پیغام دینے کا سلسلہ کس نے شروع کیا ہے؟اگر قارئین کو ایسے سوالات کے جوابات بھی دیی گئے تو پھر صنوبروں کے کٹ کر گرنے کا سلسلہ کس طرح رکے گا؟جب کہ صنوبروں کے کٹ کر گرانے کا سلسلہ ہر صورت رکنا چاہئیی۔ اور یہ قاتل سلسلہ صرف یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ ’’یہ شہر تو اب جنگل بن گیا ہے‘‘ یہ شہرکوئی جنگل نہیں ہے۔کیوں کہ جنگلوں میں بھی قانون ہوتے ہیں۔ کچھ دستور ہوتے ہیں۔وہ شیر جس کا پیٹ بھر جائے وہ حملہ نہیں کرتا۔درخت سے کسی پرندے کا بچہ گرجائے تو پورا جنگل جاگ اٹھتا ہے۔لیکن یہاں صنوبر جیسے نوجوان قتل کیی جاتے ہیں تو بھی پورا شہر سویا رہتا ہے؛ اس سکون کے ساتھ کہ صنوبر کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بکھرے ہوئے ہجوم کی یہ بے تعلقی اور بیگانگی ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جس کے باعث بسوں کے آخری اسٹاپوں پر صنوبر قتل کیی جاتے ہیں۔اور شہر چلتا رہتا ہے؛ کچھ کم ٹریفک میں سہمے ہوئے مسافروں کی مانند!
ایک انگریز مصنف نے لکھا ہے کہ ’’غصہ بہت بڑی طاقت کا نام ہے‘‘ ایک ایسی طاقت جو غم جیسے طاقتور جذبے کو بھی آسانی سے دبا لیتی ہے۔ مگر اس شہر کو غصہ بھی نہیں آتا۔منحوس سیاسی اور معاشی مفادات کے لیی ایک دن میں اکتیس صنوبروں کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اور شہر میں غصے کا طوفان تو کیا غم کی ہوا بھی نہیں چلتی۔
اس شہر کے امن پسند اور غیرت مند عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ کب ہوگا؟ یہ شہر کروڑوں لوگوں کا ہے۔ اگر چند ہزار لوگ جنرل مشرف کے خلاف ایک قوم بن کر دھرنا دیتے ہیں تو اس کا نام حکمرانی سے کٹ جاتا ہے اور اتنے ہی لوگ اگر ایک معزول چیف جسٹس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں تو حکومت؛ اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کی ناپسندیدگی کے باوجود بحال ہو جاتا ہے۔ ایسے عظیم واقعات کا حصہ رہنے والے لوگ اپنی طاقت کے ساتھ کراچی میں امن کو یقینی کیوں نہیں بناتے؟لیکن ایسے کام تبھی ہو پاتے ہیں جب کوئی رشتہ ہو۔ کوئی تعلق ہو۔ چیف جسٹس کے ساتھ عوام کا ایک رشتہ بن گیا تھا۔ اس لیی یہ نعرہ دلوں سے نکلتا تھا کہ ’’چیف تیرے جانثار ۔۔۔بیشمار بیشمار‘‘! اور اس عوام نے قوم بن کر جنرل مشرف کے خلاف بھی کامیاب تحریک اس لیی چلائی کیوں کہ انہوں نے مشرف کے ساتھ بھی ایک رشتہ قائم کیا تھا۔ ایک ایسے اختلاف کا رشتہ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔اگر عوامی طاقت ملک کو یرغمال بنانے والے مشرف کو ہٹا سکتی ہے تو کراچی کا مشرف تو اس کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
کراچی کا وہ مشرف جو ایسا ماحول پیدا کرتا ہے کہ صنوبر گولیوں سے کٹ کر گرجاتے ہیں۔ مختلف ناموں والے صنوبر۔ مختلف مقامات پر گرائے جانے والے صنوبر! ایک شہر کو سایوں سے محروم کرنے والے مجرم کے خلاف غصہ اس شہر کو آسانی سے بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیی ضروری ہے کہ اس غصے کو سیاسی مفاد کے سکے کی طرح استعمال نہیں کیا جائے۔اور غصے کے لیی بھی ضروری ہے کہ صنوبروں کے قتل پر غم محسوس کیا جائے اور غم تب تک جنم نہیں لے سکتا جب تک کوئی رشتہ نہ ہو۔اور رشتے کے لیی ضروری تو نہیں کہ ہم اس سے ملیں ہوں۔ کوئی ان دیکھا اور انجانا دوست بھی تو ہوسکتا ہے۔
فیض نے فرمایا ہے کہَ
’’بڑا ہے درد کا رشتہ؛ یہ دل غریب سہی‘‘
اس امیر شہر کا دل بھلے غریب ہی رہے۔ لیکن اگر وہ ان جانے فرید اور ان دیکھے صنوبر کے لیی درد کا رشتہ قائم کرلیتا ہے تو پھر غم کے اس بیج سے غصے کا درخت بھی پیدا ہوگا۔ وہ درخت جو ان صنوبروں کی حفاظت کرے گا جو بغیر کسی وجہہ کے صرف ایک خونخوار پیغام بھیجنے کے لیی قتل کیی جاتے ہیں۔
اور جب وہ مر جاتے ہیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ بس ایک گھر کا دروازہ کسی کے انتظار میں کھلا نہیں رہتا اور اس محلے کی ایک مکین کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اب رات کو دیر سے اس سیٹی کی دھن نہیں گونجی گی؛ جس میں اکثر ایک اداس گیت کے بول صرف اتنا بتاتے تھے کہ:
’’مجبور منتظروں کی ملاقاتیں
صرف خوابوں کی سرزمینوں
پر ہی ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔!‘‘
صنوبروں کے قتل کیی جانے کے بعد وہ گلیاں خاموش ہو جاتی ہیں؛ جن گلیوں میں کہیں دور ایف ایم پر چلنے والے اس گیت کے سر گرتے سنبھلتے پہنچتے ہیں کہ:
’’سو گیا یہ جہاں؛ سو گیا آسماں
سو گےئں ہیں ساری منزلیں
سو گیا ہے رستہ۔۔۔!‘‘