Comrade Kia Soch Raha Hai

کامریڈ کیا سوچ رہا ہے؟
اعجاز منگی


’’آج ‘‘یکم مئی ہے۔ لیکن کل کی اخبار میں یہ ’’کل‘‘ بن جائے گی۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے !آخرہر مذدور کو اس روز تنخواہ کے ساتھ چھٹی تو نہیں ملتی۔ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کل کے کامریڈوں نے آج اپنے ڈرائیوروں؛ چوکیداروں؛ مالہیوں؛ خانساماؤں اور گھریلو مددگاروں کو چھٹی دی ہے کہ نہیں!!
یا وہ آج کی تاریخ کو اپنی اس دل کی طرح بھول گئے ہیں؛ جو دل انہوں نے کبھی کابل؛ماسکو یا ہوانا میں کسی منظر کے لفافے میں محفوظ کرنے کے بعد ٹیک آف کرنے والے جہاز میں ٹونی بینیٹ گا وہ گیت گنگنایا تھا؛ جس میں کسی اجنبی شہر کے میں دل چھوڑ آنے کا دکھ انہیں’’رومیو جولیٹ‘‘ سگار کی سلگتی ہوئی خوشبو کی مانند محسوس ہوا تھا۔
ویسے کامریڈ تو اب پانڈا کی نسل بن گئے ہیں؛ جن کے قیدی جسموں پر حکمران جنرل اپنے سگار بھجاتے تھے لیکن ایسے کامریڈوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے جو ووڈکا کے پہلے پیگ کے ساتھ چیری چباتے ہوئے اپنی کم عمر دوست کو بتاتے ہیں کہ :
’’جس دن ڈھاکہ ڈوب رہا تھا؛ اس دن پارٹی کی میٹنگ بہت افسردہ ماحول میں ختم ہوئی ۔ کیوں کہ کریملن والوں نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا تھا کہ اگر ہم نے مداخلت کی تو تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔اور ویسے بھی مشرقی پاکستان کی تحریک میں ہمیں محنت کش طبقے کی تحریک کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ شاید وہ ٹھیک کہہ رہے تھے! جہاز کے ذریعے ڈھاکہ سے نکلنا تو ناممکن تھا ؛ اس لیی بنگالی ساتھیوں نے ہمارے لیی بوٹس کا بندوبست کیا تھا اور بوٹ میں سوار ہوتے ہوئے مجھے ایک بنگالی کامریڈ نے کہا تھا کہ ’’جب تاریخ طوفان بن جائے تو سرکش شاخ بننے سے کہیں بہتر ہے کہ نرم گھاس بنا جائے۔ یہ جدائی عارضی ہے۔ ہم بہت جلد اکھٹے ہونگے اور شاید چیکو سلواکیا میں نہیں بلکہ چٹاگانگ میں اپنی فتح کا جام نوش کریں۔اس اندھیری رات میں بوٹ چلتی رہی اور بنگالی ملاح ٹیگور کا گیت گاتا رہا:
’’تو مار گھورے باتی
تو مار گھورے ساتھی
امار تورے راتی
امار تورے تارا
تومار اچھی ڈونگا
امار جولا جول‘‘
ذرا سا قریب سرک کر اور اپنی لامبی پلکیں جھپک کر کامریڈ کی کم عمر دوست پوچھتی ہے کہ اس گیت کا مطلب کیا ہے؟
اور کامریڈ ایک گھونٹ میں باٹم ٹاپ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’تمہارے گھر میں روشنی ہے
تمہارے ساتھ ساتھی ہے
میرے پاس یہ رات ہے
میرے پاس صرف ستارے ہیں
تمہارے پاس مضبوط زمین ہے
اور میرا مقدر سطحِ آب پر سفر‘‘
دوسرا پیگ بناتے ہوئے کامریڈ کہتا ہے کہ’’روشنی کسی کے پاس نہیں تھی۔ہر ساتھ دم توڑ چکا تھا۔ستارے ہمارے مقدر پر طنزیہ آنکھوں سے مسکرا رہے تھے اور پانی قہقہے لگا رہا تھا۔ بوٹ آگے بڑھ رہی تھی۔ آگے کوئی منزل نہیں تھی۔ ہمیں پتہ تھا کہ ہم بکھر رہیں ہیں۔ ان بکھرے ہوئے جذبوں کو سمیٹ کر فیض نے لکھا تھا کہ:
’’ہم کہ ٹھرے اجنبی؛ اتنی مداراتوں کے بعد
کب بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد‘‘
یہ غزل میرے میوزک ڈوائس میں موجود ہے۔ لو سرچ کرو؛ فیض کے نام سے یا نیرہ نور کے نام سے ہوگا! ہاں یہی تھوڑی سی آواز بڑھا دو!
جب دوسرا پیگ پورا ہونے والا ہوتا ہے تو کامریڈ کہتا ہے کہ:
’’ہم نے ماسکو والوں کے ساتھ سخت اختلاف رکھا تھا کہ کابل میں ڈائریکٹ مداخلت نہ کریں۔ لکین معلوم نہیں خلق اور پرچم والوں نے انہیں کیا پٹی پڑھائی تھی؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود ان کا سکھایا ہوا سبق دہرا رہے ہوں۔
لیکن اس سے کیا ہوا؟ پاکستان میں نہ صرف جمہوریت کی جڑ ختم ہوئی بلکہ امریکہ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیی اس ملک میں اپنے سازشی بنیاد رکھ دیی۔
تیسرا پیگ بناتے ہوئے کامریڈ اپنی دوست کو بتاتا ہے کہ:
’’لیکن کابل میں بہت اچھا وقت گذرا۔ دن کو میٹنگز اور رات کو رشین ووڈکا۔انٹر کانٹینینل کا ڈائنگ ہال۔ افغان میوزک۔ پوری دنیا کے دوست!
دانیا آپ کو وہاں پر ملی تھی؟ نوعمر دوست کے سوال پر کامریڈ مسکرا کر کہتا ہے کہ’’نہیں۔وہ ماسکو میں ملی تھی۔ یوتھ فیسٹیول میں۔اس نے اپنے ملک میں بہت سفر کیا تھا۔ اس پر بہت ٹارچر ہوا تھا۔ وہ ٹرکش تھی۔ اس کا باپ پارٹی کی بڑی فگر تھا۔ بہت قربانیاں دی انہوں نے۔ تمہیں پتہ ہے کہ دانیا کی ایک آنکھ کی روشنی تشدد کی وجہہ سے بجھ گئی تھی۔ اور وہ آنکھ چھوٹی بھی ہوگئی تھی۔ مگر وہ ہنستے ہوئے بہت اچھی لگتی تھی۔ میں اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ بھی راضی تھی۔ لیکن پارٹی نے سخت مخالفت کی۔ اور ہم دونوں نے قربانی دی!
ہماری تاریخ قربانیوں کی طویل داستان ہے!
چوتھا پیگ کامریڈ کے سر پر سوار ہوکر اسے ماضی اور حال میں ایک جھولے کی طرح جھلاتا جا رہا تھا۔وہ نہ معلوم کیا کہہ رہا تھا۔
’’ سب غلط ہوگیا۔۔۔صرف ایک گورباچوف کی غلطی کی وجہہ سے۔۔۔ ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا تھا۔۔۔انقلاب کبھی پیچھے نہیں لوٹتا۔ ۔۔مگر ٹراٹسکی کی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔۔ وہ جینئس تھا۔۔۔ مگر اسے کیا ملا؟ سر پر ہتھوڑا۔۔۔!!!اسٹالن کو ایسا نہیں کرنا چاہئیی تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
’’اور اب !اب کیا؟‘‘ شرارت والی آنکھوں سے اس کی نوعمر دوست کچھ پوچھتے ہوئے کہتی ہے۔
وہ سمجھ جاتا ہے۔ اب تم؛ تمہاری حسین بانہیں۔ ریشمی بال۔ قاتل ہونٹ اور یہ کڑوی ووڈکا!
آپ کیوں پیتے ہیں؟ دوست کے سوال پر مشکل سے آنکھیں اٹھاتے ہوئے کامریڈ کہتا ہے کہ’’جینے کے لیی پینا پڑتا ہے۔ایسی زندگی بغیر پیی نہیں کاٹی جا سکتی۔یہ زندگی نہیں ایک غداری ہے۔ ہم غدار ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ اس مضافاتی پوائنٹ پر بہت سارے بچوں کو پیٹ بھرنے جتنا دودھ نہیں ملتا۔ اور میں پانچ ہزار کی بوتل پی رہا ہوں۔ جو بچ جائے گی وہ یہاں رہ جائے گی۔تمہیں پتہ ہے کہ پانچ ہزار کیا ہوتے ہیں؟ ایک سگھڑ عورت ان سے پورے مہینے کا راشن چلاتی ہے۔
پھر کامریڈ ایک زوردار قہقہا لگاتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ’’لیکن ہمیں اس سے کیا؟شولوخوف نے لکھا ہے کہ وقت ایک ڈان ہے؛ جو بہتا رہتا ہے۔تمہاری آنکھیں بہت نشیلی ہیں۔۔۔!لیکن فیض فرماتا ہے کہ:
’’مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بجا کوچہ و بازار میں بکتے ہوئے جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیا کیجئے
مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ!‘‘
لیکن کامریڈ کے قریب آتے ہوئے اس کی کم عمر دوست کہتی ہے
’’لیکن میں تو مانگو گی؛ یہ میرا حق ہے۔‘‘
کامریڈ زور سے ہنستا ہے ’’حق۔۔۔۔حق۔۔۔اناالحق۔۔۔تم میرا نہیں کسی اور کا حق ہو! کسی وجیہہ نوجوان کا۔۔ لیکن میں نے دولت کے ذریعے تمہیں اپنے بڑھاپے کی لاٹھی بنا لیا ہے‘‘
’’ایسا کیوں کہتے ہو؟‘‘ نو عمر دوست سے کے قریب آتے ہوئے محبت کے مدہوش مٹھاس سے کہتی ہے۔
اور کامریڈ سوچتا ہے کہ
’’کیا اس لڑکی کو میری ڈھلکی ہوئی جلد بری نہیں لگتی اور میرے منہ کی بو!!‘‘
پھر اس کی وحشت جاگ جاتی ہے اور سوچ سوجاتی ہے۔
پرانے شرابوں اور نئی لڑکیوں سے اپنے سوچ کو سلانے والے کامریڈ کتنے ہیں؟کابل سے لیکر کراچی تک ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تو اتنی کم بھی نہیں۔
لیکن اس افسانوی حقیقت سے ہٹ کر میں ایک ایسے محنتی اور نیک کامریڈ کو جانتا ہوں جس نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے سرحد کی حکومتی سیاست میں بہت بڑا مقام بنا لیا ہے۔ کامریڈ کہیں بھی چلے جائیں اور کچھ بھی کریں؛ ان سے اخبارات پڑھنے کی عادت نہیں چھوٹتی۔
آج یکم مئی کے دن وہ کامریڈ کراچی کے اخبارات میں اپنے ہم زباں مذدور ساتھیوں کے بہیمانہ قتل پر کیا سوچتا ہوگا؟
کیا اقتدار احساس کو ختم کردیتا ہے؟
ایسا کیوں ہوتا ہے؟