Fareed Rikshaw Wala

فرید رکشا والا!
اعجاز منگی


کراچی میں جب بھی بد امنی بڑھتی ہے؛ تب ہزارہ ڈویزن کے اخبارات میں یہ سلگتی ہوئی سرخی نمودار ہونے لگتی ہے کہ:
’’ہزارہ میں تابوتوں میں بند لاشیں آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘‘
اس بار ایسی سرخی اس فرید کے بارے میں لگ چکی ہوگی؛ جس کو گولیمار چورنگی کے قریب سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
فرید جو اصل میں ایبٹ آباد کا تھا اور اکثر اس روڈ سے گذرتا تھا؛ جس روڈ پر اس ملک کی سب سے بڑی اسلحے کی فیکٹری قائم ہے۔ اب اس بات کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ اس علائقے سے فرید پہلے آیا یا فرید کی تحریرِ حیات کو فل اسٹاپ دینے والے گولی پہلے روانہ ہوئی!!اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں کا سفر ایک ساتھ شروع ہوا ہو۔اس دوراں فرید رکشا میں اوروہ گولی میگزین سے چیمبر کا سفر کرتے کرتے تھک چکی ہو اور پھر اس نے چپکے سے اپنے ہم وطن کو کہا ہو کہ ’’آ اب لوٹ چلیں‘‘
کراچی کے سول اسپتال کے ڈاکٹروں نے تو شاید اس گولی کو فرید ولد بگا خان کے سر سے نکال دیا ہو جس گولی کو معلوم نہیں تھا کہ ایک قاتل کے ہاتھ اور فرید کے سر کے درمیاں وہ کتنی چھاتیوں کو چھلنی کرتی ہوئی اور کتنے رشتوں کو ختم کرتی ہوئی گئی!!؟ لیکن جب وہ گولی فرید کے سر میں داخل ہوئی تب اس کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اس کے سر میں کوئی سرکشی نہیں تھی۔ اس کے سر میںاپنے سرسبز وطن کی یاد اور بہت ساری پریشانیاں ہی تھیں۔وہ پریشانیاں جو اس شہر کے غریب لوگوں کی میراث ہیں۔ وہ پریشانیاں جن کو مرنے والے اپنے ورثاء کے لیی بطور ترکہ چھوڑ جاتے ہیں تو وہ مال و دولت کی طرح بٹ کر کم نہیں ہوتیں؛ بلکہ مزید بڑھ جاتی ہیں۔مگر فرید کے سر سے وہ پریشانیاں خون بن کر اس شہر کی خاک میں جذب ہوگئیں؛ جو شہر کبھی ’’غریب پال‘‘ کہلاتا تھا اور اب اس شہر کی شناخت ’’غریب مار‘‘ بن کر رہ گئی ہے۔
فرید بھی ہزارہ ڈویزن کے ہزاروں اورلاکھوں لوگوں میں سے ایک تھا اس شہر میں اس لیی آتے ہیں کہ یہاں وہ پیسہ ہے جو ان کی بہت ساری پریشانیوں کو ختم کر سکتا ہے۔ لیکن کراچی پر قابض مافیا یہ مت سمجھے کہ یہ لوگ کراچی کو لوٹنے کے لیی آتے ہیں۔ یہ لوگ تو کراچی میں آکر اپنے آپ کو لٹاتے ہیں۔ کراچی سب سے پہلا حملہ ان کی گلابی رنگت پر کرتی ہے اور وہ رنگ جو صبح کی سرخی جیسا ہوتا ہے وہ اس شہر کی پالیوشن کی وجہہ سے آہستہ آہستہ شام جیسے سانولے پن میںڈھل جاتا ہے۔جب کافی عرصے کے بعد وہ گاؤں جاتے ہیں یا گاؤں کے لوگ یہاں آتے ہیں تو رسمی جملوں کے بعد فورن کہتے ہیں کہ ’’یار! کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ تم تو باکل بدل گئے ہو‘‘ مگر یہ لوگ اس شہر کو صرف اپنی سنہری رنگت ہی نہیں دیتے بلکہ اپنی وہ جوانی بھی اس شہر پر قربان کردیتے ہیں جو تمام نعمتوں کی آماجگاہ ہوتی ہے؛ وہ جوانی لٹا کر انہیں دو وقتوں کی روٹی اور ٹین کی چھت والا ایک کرایی کا مکان ہی مل پاتا ہے۔
وہ لوگ کراچی کو استعمال کرکے لنڈن میں کوٹھیاں نہیں بناتے اور نہ امریکہ میں فلیٹ خریدتے ہیں اور نہ افریکہ و مشرقِ وسطی میں کاروبار شروع کرتے ہیں ۔ یہ لوگ سارا دن اس شہر کو اپنی زندگی نچوڑ کر دیتے ہیں؛ تب جاکر یہ بے رحم شہر ان کے سوکھے ہوئے ہونٹ گیلے کرتا ہے اور دن بھر کی تھکاوٹ انہیں سیمنٹ کے فرش پر سلا دیتی ہے اور نیند ان کو خواب دکھاتی ہے؛ ایک اچھے اور روشن مستقبل کے! بچوں کے لیی بہتر تعلیم اور والدین کے بہتر علاج کے خواب! ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیی یہ لوگ پھر کولہو کے بیل کی طرح اس زندگی میں جت جاتے ہیں؛ جس زندگی کو ’’کراچی میں جینے‘‘ کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔
کیا ایسا جینا بھی کوئی جینا ہے !! مگر اس کے باوجود جب اس شہر کے غنڈے اور بدمعاش انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کے لیی بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں؛ جن لوگوں کے مرنے پر شہر میں ہڑتالیں نہیں ہوتیں۔حکومتیں داؤ پر نہیں لگتیں۔ بس نجی چینلوں پر چند پٹیاں چلتی ہیں اور اخبارات میں سنگل یا ڈبل کالم خبریں شایع ہوتی ہیں۔قصبہ کالونی میں چند ٹائر جلتے ہیں۔نصرت بھٹو کالونی میں چند نعرے لگتے ہیں۔ اور خاموش کالونی ایک دن کے لیی ماتمی شور میں ڈوب جاتی ہے۔
پھر دوسرے دن یہ محنت کش لوگ سورج کی گیند اچھلنے سے قبل جاگ جاتے ہیں۔ کوئی اپنے رکشا کو صاف کرکے اسٹارٹ کرنے لگتا ہے تو کوئی اپنی ٹیکسی کو دھکے لگوانے کے لیی محلے والوں کو منتیں کرتا ہے۔ کوئی اپنا کدال اٹھاتا ہے تو کوئی ٹفن میں دوپہر کا کھانا لیکر دفتر کی طرف چل پڑتا ہے۔
فرید بھی ایسے لوگوں میں سے ایک تھا۔ اس نے اپنی جوانی اس شہر کی خدمت میں بتائی اور ابھی اس نے بڑھاپے کی دہلیز عبور ہی کی تھی کہ اس شہر کے قاتلوں نے اسے ایک بوجھ کی طرح گولی سے ہٹا دیا۔ جب کہ اس میں ابھی تک اتنا دم تھا کہ وہ مزید مشقت کر سکتا تھا۔ابھی بہت سارے مسافر اس کے منتظر تھے؛ جنہیں فرید اپنی منزلوں پر چھوڑ آتا مگر اس کے سفرحیات کو وقت سے پہلے ختم کردیا گیا۔اخبارات میں تو صرف اتنا ہی آتا ہے کہ مرنے والے کی لاش اسی شہر میں دفنائی گئی یا اسے تابوت میں ڈال کر اپنے آبائی گاؤں روانہ کیا گیا۔ لیکن فرید کے حوالے سے تو یہ معلومات بھی نہیں دی گئی۔ اگر فرید کی نعش کو ایبٹ آباد بھیج دیا گیا ہوگا تو اس مٹی نے اپنے بیٹے کو آغوش میں لیتے ہوئے ضرور کہا ہوگا کہ آخر میں کب تک اپنی کوکھ میں ان لاشوں کو سلاؤں جن کے قاتل کبھی بھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔جن کے مقدمات نہیں چلتے۔ کیوں کہ تھانوں میں ان کے قاتلوں کے نام درج نہیں ہوتے۔ وہاں صرف اتنا لکھا جاتا ہے کہ ’’قاتل۔ گمنام‘‘
حالانکہ کراچی کو ایک چھوٹا سا افغانستان بنانے کی کوشش کرنے والے قاتل اتنے بھی گمنام نہیں۔ ان کے ناموں کے ڈنکے پورے ملک میں بج رہیں ہیں۔ مگر حکومت ان کے حوالے سے خاموش ہے۔ کیوں کہ ان پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد اس سیٹ اپ کو اپ سیٹ کرنا ہے جس سیٹ اپ میں وہ سیٹ ہیں؛ جو سیٹ اپ ان کو اچھی سیٹیں فراہم کرنے کا پابند ہے۔ وزارتوں کی سیٹیں؛ اعلی محکموں کی سیٹیں؛ جہازوں کی سیٹیں اور ان کے بچوں کی بہترین تعلیم کے لیی سفارشی داخلاؤں کی سیٹیں! ان سب سیٹوں کی قیمت بھی فرید جیسے لوگ ہی ادا کرتے ہیں کہ انہیں اپنے رکشا کی سیٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لیی چھوڑ دینی پڑتی ہے۔
فرید نے اپنے رکشا کی سیٹ ہمیشہ کے لیی چھوڑ دی۔ اس کی سانسیں رک گئیں۔ مگر یہ مت سمجھیں کہ اس کی رکشا بھی ہمیشہ کے لیی رک جائے گی۔ انسان اور رکشا میں یہی تو فرق ہے۔ اگر رکشا رک جائے تو ایک مکینک اسے دوبارہ اسٹارٹ کر سکتا ہے لیکن اگر انسان کا دل رک جائے تو ماہر سے ماہر ڈاکٹر بھی اسے دوبارہ اسٹارٹ نہیں کرسکتا۔رکشا والا فرید بدقسمتی سے رکشا نہیں بلکہ انسان تھا۔ اس لیی اس کی رکی ہوئی نبض دوبارہ نہیں چلی۔ مگر کسی اور نام سے ایک اور بیروزگار فرید اس کے رکشا کو اسٹارٹ کرے گا۔ اگر رکشا اسٹارٹ نہیں ہوا تو وہ اس کی پلگ نکال کر اس کو صاف کرے گا اور پھر اس کو اسٹارٹ کرکے سارا دن شہر میں سواریوں کو اٹھاتا رہے گا۔ اور رات کو جب شہر کا شور تھک کر سوجائے گا تب وہ عارضی خاموشی کو آرے کی طرح اپنے رکشا کی آواز سے چیرتا ہوا آئے گا اور دو چار نوالے کھاکر سوجائے گا۔ پھر لوگ اس رکشا کو فرید کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کے نئے چلانے والے کے حوالے سے جانے گے۔اس طرح یہ شہر اس فرید کو بھول جائے گا؛ جس فرید نے ایک عرصہ اس شہر میں اپنی زندگی گذاری۔
مگر اسی شہر کی کچھ آنکھیں اس فرید کو کبھی نہیں بھلا پائیں گی؛ جن آنکھوں میں جاتے جاتے فرید اپنے لہو سے یہ الفاظ لکھ کر گیا ہے کہ:
’’تیڈے شہر میں ہکڑا فقیر آ سیں
اوہکوں خیر ڈیویں متاں میں ہوواں
ہکڑا راہی تیکاں راہ پچھ سیں
اوھکوں راھ ڈسیں
متاں میں ہوواں
ہکڑا شخص تیڈے شہر میں قتل تھیسیں
اونھندا منہں ڈیکھیں
متاں میں ہوواں۔۔۔!‘‘
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں نے فرید کو گولی سے ختم کردیا ہے اور وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔ وہ غلط ہیں۔ وہ پھر آئے گا۔ دور پہاڑوں سے۔ ایک فقیر کی طرح۔ ایک مسافر کی طرح ۔اور ایک مذدور کی طرح۔ لاش بن کر جانے اور پھر آجانے کے لیی!