Mohabbat Aur Mazaq !

محبت اور مذاق
اعجاز منگی

انگریزی زبان کے عظیم ادیب چارلس ڈکنس نے اپنی مشہور ناول ’’ٹیل آف ٹو سٹیز‘‘ کی ابتدا کچھ اس طرح کی ہے کہ:
’’وہ وقت بہت بہترین تھا؛ وہ وقت بہت بدترین تھا؛وہ دور داناہی کا تھا؛ وہ دور نادانی کا تھا؛ وہ عہد یقین تھا؛ وہ بے یقینی کا عرصہ تھا؛ وہ روشنی کا موسم تھا؛ وہ تاریکی کا موسم تھا؛وہ امید کا موسم بہار؛ وہ مایوسی کا موسم خزاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
ایسی ہی کیفیت فیض کے اس نظم میں بھی ہے؛ جس میں اس نے بتایا ہے کہ :
’’یہ دھوپ کنارہ شام ڈھلے
ملتے ہیں دونوں وقت جہاں‘‘
کچھ اس انداز سے دو متضاد موسم ایک دوسرے کے ساتھ ان دو ہونٹوں کی طرح ملے تھے جو غصے میں ایک دوسرے کے ساتھ بھنچ کر لہولہاں نظر آتے ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب پرویز مشرف کے خلاف اس ملک کی فضاؤں سے یہ صدا بلند ہو رہی تھی کہ:
’’اب تو اس دیس کے بچے بھی دعا کرتے ہیں
حاکمِ وقت کو مسند سے اتارا جائے‘‘
اسی دور میں اس ملک کے نامور شاعر نجی چینلزکے ’’بریکنگ نیوز‘ ‘ والے بے احتیاط تیروں سے زخمی ہوئے مگر اس نے اپنی سانسوں کو تب تک سنبھالے رکھا جب تک ایوان ِ صدر سے وہ شخص ہوا جس کی وجہہ سے اس دیس میں تیز ہواؤں میںگھٹن کا مقدار بڑھتا جا رہا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد فراز کے انتقال کی خبر ان شعروں کے ساتھ اڑی تھی جو ایس ایم ایسز کے ذریعے ایک موبائل سے دوسرے موبائل تک منتقل ہوتے رہے۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آج اس کے انتقال کو کوئی آٹھ ماہ ہونے کو ہیں مگر موبائل اونرز کے لیی وہ دن حیرت انگیز ہوتا ہے جب ان کے ’’ان باکس‘‘ میں ’’فراز‘‘ کا نام نہیں آتا۔
ایس ایم ایس؛ جس کو میں دورِ حاظر کا سب سے بڑا میڈیا سمجھتا ہوں اس میں اتنی پزیرائی کسی کو حاصل نہیں ہوئی جتنی احمد فراز کو!
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد فراز کو ان کی زندگی میں بہت شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اتنی شہرت کہ انہوں نے ایک شعر میں لکھا تھا کہ:
’’اور تمہیں کتنی محبتیں چاہئییں فراز
ماؤں نے بچوں پر تیرا نام رکھ دیا‘‘
لیکن کس کو پتہ تھا کہ وہ محبت کچھ وقت کے بعد ایک مذاق بن جائے گی۔وہ فراز جو محبت کے حوالے سے اس ملک کا سب سے بڑا شعری حوالہ بن کر ابھرا آج وہ کچھ شائستہ اور کچھ ناشائستہ قسم کی مذاق بن گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مرحوم کو یاد کیا جائے تو اس کی روح کو مسرت ہوتی ہے مگر ایس ایم ایس سروس میں احمد فراز کو جس طرح یاد کیا جاتا رہا؛ اس سے تو اس کی روح پر ایک اذیت کی کیفیت اترتی ہوگی۔ کوئی وقت تھا کہ جن لوگوں کا نام ’’فراز‘‘ ہے؛ وہ فخر محسوس کرتے تھے مگر اب ’’فراز‘‘ فخر کا نہیں بلکہ مذاق بن گیا ہے۔۔
اب ایسی کوئی مذاق شاید ہی بچی ہو؛ جو فراز کے حوالے سے نہیں کی گئی ہے۔اس مذاق کے سلسلے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کا جواب تو بہت تحقیق طلب معاملہ ہے؛ مگر جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ پہلے ایس ایم ایس پر فراز کے رومانوی اشعار گردش کرتے رہے اور پھر لوگوں نے فراز کے نام اپنے بے کار اشعار پھیلانے شروع کیی۔ ایسے اشعار جن میں نہ کوئی وزن ہوتا تھا اور نہ کوئی ترنم؛ نہ کوئی پیغام اور نہ کوئی تصور! ایسے اشعار فراز کے حوالے سے پورے ملک میں پھیلنا شروع ہوئے اور ایک دن کسی من چلے کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ فراز کو چین بھیجا جائے اور اس نے چینی لہجے میں فراز کا نام ڈال کر لوگوں کو بتایا کہ فراز چینی اولمپک میں پہنچ گیا ہے۔ اس طرح فراز کے حوالے سے محبت کے پیغامات کا سلسلہ ختم ہوا اور مذاق شروع ہوگیا۔
فراز کے حوالے سے لڑکیاں اپنے اںداز سے مذاق کرتی رہیں اور لڑکے اپنے انداز سے!
ایک لڑکی نے اپنی دوست کو فراز کے حوالے سے یہ شکایت ایس ایم ایس کی کہ:
’’میں اسے خود بھی بھولنا چاہتی ہوں ’’فراز‘‘
مگر امی صبح کو دس بادام کھلا دیتی ہے‘‘
اور لڑکے تو لڑکے ہیں۔ ان کی مذاق کا انداز ااکثر اوقات ناقابلِ اشاعت ہوا کرتا ہے مگر تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے جب وہ فراز کے حوالے سے کوئی مذاق کرتے ہیں تو یہی لکھتے ہیں کہ:
’’اس گلی اس وجہہ سے جانا چھوڑ دیا فراز
وہ کمینے نوکیا گیارہ سو بھی چھین لیتے ہیں‘‘
اس طرح آوارہ مزاجوں نے مشکل سے کوئی ایسی بات چھوڑی ہے؛ جس میں انہوں نے فراز کے نام کو خوار نہ کیا ہو!
اور آوارہ مزاج نوجوانوں کی بات الگ ہے مگر ہمارے پاس تو ایسے سنجیدہ دوستوں کے میسیجز بھی آئے ہیں جن میں فراز کے حوالے سے ’’ساحلِ سمندر‘‘ سے لیکر ’’آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پہ ہنسی‘‘ والی باتیں بھی بیان کی ہوئی ہیں۔
لیکن کچھ مزاحیہ مسیجز سے اس بات کا پتہ بھی چلتا ہے کہ ہمارے نوجوان کس قدر تخلیقی حس ِ مزاح کے مالک ہیں۔
مثال کی طور پر جس نے احمد فراز کے حوالے سے یہ شعری میسیج بنایا؛ جس کا عنوان تھا :
’’اب فراز وزیرستان میں‘‘
اور شعر تھا
’’دغا رپیٹر زماں فائر د بارہ بور فراز
لقا دشمن دغا ’’ڈز ڈز‘‘ ولہ وئی وئی‘‘
کیا فراز نے کبھی سوچا بھی ہوگا کہ اس کانام اس طرح سے مذاق کی علامت بن جائے گا؟
فراز کے حوالے سے ایک مزاحیہ شعر میں عجیب غریب آوازیں لکھ کر آخر میں یہ بتایا گیا کہ ’’آج فراز کی طبیعت خراب ہے‘‘
اور ایک شعر میں آوازیں بھی جانی پہچانی نہیں تھیں۔ یعنی لکھا ہوا آیا تھا کہ:
’’گمن کہ کرکپپ؛ تمن گمن تمپ جھٹک اس بن کو فراز
نمکھابٹخ ببتا بر جھمٹک دغم جدلم جاناں جاناں‘‘
اور نیچے کی عبار ت میں بتایا گیا تھا کہ’’بھاگو فراز پاگل ہو گیا ہے‘‘
فراز تو کیا کوئی سا بھی شاعر اپنے حوالے اس قسم کا سلوک سوچ کر شاعری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیی ترک کر سکتا ہے۔ فراز کے وہم گمان میں بھی اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کی جھلک تک نہ آئی ہوگی۔ اس نے اپنے حوالے سے بدتر سے بدتر امکانات پر غور کیا ہوگا مگر اس کے ذہن یہ نہیں آیا ہوگا کہ موت کے بعد اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوگا!مگر اب یہ کچھ ہو رہاہے اور عوامی سطح پر ہونے کی وجہہ سے اسے کسی طرح روکا بھی نہیں جا سکتا۔اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ اسی طرح کب تک چلتا رہے گا؟
اس حوالے سے اب تو فراز کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کسی نے فراز کی روح کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’ہم تو اس قبر میں بھی سکوں میسر نہیں فراز
روز آکر کہتے ہیں فرشتے کہ استاد آج کوئی نیا شعر ہوجائے‘‘
جس قسم کے مزاحیہ شعر احمد فراز سے منسوب کرکے موبائل نیٹ ورک کے ذریعے پھیلائے جا رہے ہیں؛ وہ شعر فراز کی روح پر تشدد ہیں۔ مگر وہی بات کہ انہیں روکنا ممکن نہیں۔
فراز کے نام سے اس قسم کے سلوک پر میں سوچ رہا ہوں کہ پاکستان میں صرف وہی ایک شاعر نہیں پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ شاید اس کا سبب یہی تھا کہ اس کی شاعری بجائے خود ایک مقصد بننے کے ایک ذریعہ بن گئی تھی؛ نوجوان لڑکیوں میں مقبولیت کا! میں نے یہ بات اس کے حوالے سے پہلے بھی لکھی ہے کہ اس نے اپنی شاعری کو حسین مچھلیاں پکڑنے کے لیی ایک جال کے طور پر استعمال کیا۔ اگر اس نے اپنے فن کی قدر جانی ہوتی اوراگر اس نے اپنے فن کو شعوری فرض میں استعمال کیا ہوتا تو شاید اس کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں ہوتا۔پھر شاید اس کے محبتوں کے تصورات اس طرح مذاق نہ بنتے۔
فراز نے اپنے فن کے غرور میں محبت جیسے عظیم جذبے جو اپنے ہرجائی مزاج کے حوالے سے ایک مذاق بنا دیا اور تاریخ کے منصف نے اس کی محبت بھری شاعری کو دلوں کے گلدانوں میں محفوظ کرنے کے بجائے لطیفوں کا لہجہ قرار بھی دیا اور اس لہجے کو عام بھی کر دیا۔
تاریخ فراز کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے؛ اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی کہ’’ہم اہلِ قلم کیا ہیں؟‘‘