Tere Aashiq Zinda Hein Aur Bohat Sharminda Hein

تیرے عاشق زندہ ہیںاور بہت شرمندہ ہیں!
اعجاز منگی


آئیں اس دور کی باتیں کریں؛ جب سیاست اقتداری بالا خانے کی وہ گھاگھ عورت نہیں بنی تھی جو مخصوص ادا کے ساتھ پان چباتے ہوئے بتاتی ہے کہ ’’دھندہ اور رشتہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘
آئیں اس دور کی باتیں کریں جب سیاست ایک بھولی بھالی لڑکی کی طرح اپنی آنکھوں میں بھاری خوابوں کا کاجل بھر کر ہر منظر کو یقین کی نظر سے دیکھا کرتی تھی۔
آئیں اس دور کی باتیں کریں جب سیاست کے سینے میں نہ صرف ایک دل ہوا کرتا تھا بلکہ اس دل میں محبت کا ایک طوفان امڈتا رہتا تھا۔
آئیں اس دور کی باتیں کریں جب جیلوں میں زمانے کے مجرم کم اور ضمیر کے مجرم زیادہ ہوتے تھے۔
اور جب قید تنہائی کے دوراں گرم ہوا کے جھونکے کے ساتھ کوئی تتلی اڑ کر سیاسی قیدی کے سامنے گرتی تھی تب وہ اس کو مسکراتے ہوئے ہاتھوں سے اٹھا تا تھا اور اس سے پوچھا کرتا تھا کہ ’’کیا تمیں اس نے بھیجا ہے؟‘‘
وہ حسنِ اتفاق کی بات تھی کہ جب سیاست دماغ کا دھندہ نہیں بلکہ دل کی بازی تھی۔
اور’’حسنِ اتفاق‘‘ کا محاورہ اس لیی وجود میں آیا؛ کیوں کہ اکثر طور پر اتفاقات بہت بدصورت ہوتے ہیں۔
عشق بھی اتفاق سے ہوتے ہیں۔لیکن ایسے اتفاقات روزانہ رونما نہیں ہوتے۔
چمکتی ہے بجلی؛ ایک اندھیرے دل میں مگر’’کبھی کبھی‘‘!
اس لیی ہی تو البرٹ کامو نے لکھا تھا کہ:
’’عشق دوڈھائی صدیوں میں مشکل سے ایک دو بار ہوتا ہے‘‘
اورعشق کیا ہے؟
کیا یہ سوال اس سوال سے زیادہ مشکل نہیں کہ’’سچ کیا ہے؟‘‘
فرانسز بیکن نے خواہ مخواہ لوگوں کو امپریس کرنے کے لیی لکھا تھا کہ ’’سب سے مشکل ترین سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے؟‘‘
جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے؟
سچ تو زندگی ہے۔
مگر محبت موت ہے!
بہت پراسرار؛
کبھی نہ سلجھنے جیسی پہیلی!
حیرت ہے کہ بائبل کے اہلِ قلم نے یہ افسانوی بات کیوں نہیں لکھی کہ:
’’جس دن انسان نے محبت کو سمجھ لیا یا موت کا علاج کر گیا۔اس دن وہ خدا وند کو ہرا دے گا۔ اور خداوند اس دنیا کی بازی کو الٹ دے گا۔‘‘
لیکن نہ تو انسان محبت کو سمجھ سکتا ہے۔ اور نہ وہ موت کا علاج کرسکتا ہے۔
اس لیی محبت کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ اور دنیا میں اس کے پھول کھلتے اور بکھرتے رہیں گے!
اس کی ’’خوشبو‘‘ بتاتی رہے گی کہ یہ کچی کلی کی مہک ہے یا مذار سے اڑ کر آئے ہوئے سوکھے گلاب کی بکھری ہوئی پتی کی!
شاعری سوکھے ہوئے پھولوں کی پتیوں کو اڑاتا ہوا طوفان ہے۔
اور محبت کیا ہے؟
اس بات پر پردہ پڑا رہنے دو۔اس کو مت اگھاڑو!
علم کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہر چیز کو ننگا کیا جائے!!؟
ادب کی بات کرو!
جو محبت کا دھوبی ہے۔
اور انسان کو دھوتا ہے۔
ادب کی بات کرو!
جو محبت کا درزی ہے۔
اور اس کے لیی سیتا ہے؛
حسن کے حسین لباس!!
حالانکہ نیتِ شوق کی ناپ نہیں ہو سکتی۔
اور محبت کا لباس سینے کے لیی تو بدن کی قبا کترنی پڑتی ہے!
یہ اور طویل ہوسکتا ہے؛
اس نظم کا اردو ترجمہ
جو ابھی تک کسی زبان میں نہیں لکھی گئی!
مگر موضوع پر آنا ہے؛
یہ ثابت کرنے کے لیی کہ
یہ ایک کالم ہے
اور قابلِ اشاعت بھی!
اس لیی آئیں بات وہیں سے شروع کرتے ہیں
جہاں سے ٹوٹی تھی ۔ اور اس طرح ٹوٹی تھی؛ جس طرح گلزار نے لکھا تھا کہ:
’’جیسے چھناکے چٹخ جائے کسی ساز کی تار
جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
تم سے جب جوڑ کر توڑنا پڑتی ہے نظر
تیرے جانے کی گھڑی سخت گھڑی ہے جاناں!‘‘
ایسی ہی سخت گھڑی؛ ہر محبت میں آتی ہے۔جب انسان کھڑا رہتا ہے؛ کسی فلیٹ کی بالکونی کے سامنے؛ کسی بس اسٹاپ یا کسی ریلوے اسٹیشن یا اےئر پورٹ پر! اور محبت کبھی ہاتھ ہلا کر تو کبھی بغیر ہاتھ ہلائے چلی جاتی ہے۔
نہ معلوم شاعری میں یہ بپتا کس کی ہے کہ:
’’پھر مجھے تاریک کرکے
تیرگی بڑھتی گئی
میں نے دیکھا دور تک
سنسان تھی گلیاں مری
اور پھر میں روشنی کی کرچیوں میں
عکس اپنا دیکھ کر
تجھ سے جدا ہوتا گیا‘‘
ہر سچی محبت کے مقدر میں جدائی کا موڑ آتا ہے۔جہاں عاشق اکیلا رہ جاتا ہے اور محبت بہت دور نکل جاتی ہے۔
محبت دور کیوںجاتی ہے؟
کیوں کہ ایک مقدس آنسو کو ستارہ بننے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
لیکن انسان جب بھی آنسوؤں سے بھرے ہوئے آسمان کو دیکھتا ہے تو اسے یہ یقین آ جاتا ہے کہ محبت لوٹ آئے گی۔
اور محبت لوٹ آتی ہے۔
کسی ساز کی خوشبو
بسا کر اپنے بالوں میں
محبت لوٹ آتی ہے۔
کسی آواز کا جادو
پہن کر اپنے کانوں میں
محبت لوٹ آتی ہے۔
اندھیری رات میں جگنو
یا پھر ٹوٹا ہوا تارہ
اداسی کی حقیقت میں
ہمیں آ کر بتاتا ہے
’’محبت لوٹ آئی ہے‘‘!
مگر ایسی باتیں وہ آمر نہیں سمجھ سکتے؛ جن کی باتیں سے بارود کی بو آتی ہے۔ان کے لیی سب سے بڑی حقیقت ’’رائل سلیوٹ‘‘ کی وہ بوتل ہے جسے ایک فرینچ لڑکی نازک اداؤں کے ساتھ جامنی رنگ کے مخملی کپڑے سے اس طرح نکالتی ہے جس طرح گناہ گار دل سے شیطانی دھڑکن نکالی جائے!
مجھے نہیں معلوم کہ چلی کا ماڈل ڈکٹیٹر پنوشے کون سی شراب پیتا تھا؟ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ برسوں تک ناظم حکمت سے سورج اور چاند کو دیکھنے کا حق چھیننے والے ترک آمروں کا محبوب مشروب کون سا تھا؟
مگر ہر نشہ ایک حد کے بعد اتر جاتا ہے؛ اقتدار کی مسند پر براجماں اس شخص کی طرح جو اب میڈیا کو تلقین کرنے لگا ہے کہ ’’ماضی کو بھول جاؤ‘‘
بھولی تو غلطی جاتی ہے۔ اس ملک کا ماضی آمروں کی غلطیوں کا داستان ہو سکتا ہے مگر اس ملک کے لوگوں کے لیی تو وہ مدفون محبتوں کا مقام ہے۔ جہاں لوگ پردیس سے بھی لوٹ آتے ہیں؛ پھولوں کے گلدستے رکھ کر یہ یقین دلانے کے لیی کہ ’’ہم کچھ بھی نہیں بھولے‘‘
آمروں کا دورِ اقتدار ایک ظالمانہ مذاق ہوتا ہے۔ اور عوام کے لیی وہ تاریخ ایک ایسی چیخ کی طرح ہوتی ہے جو اسے کبھی سونے نہیں دیتی۔جو خواب بن کر نیند کا نیلا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ باہر بہت بارش ہے۔ کیا میں اندر آجاؤں؟
محبت طوفانی بارشوں والی اندھیری راتوں میں لوٹ آتی ہے۔
اس عوام کا بھی ایک اجتماعی عشق ہے۔ جو لوٹ آتا ہے۔ ہر سردیوں کی شاموں اور گرمیوں کی راتوں میں!
وہ مقتول عشق جو کبھی محبت کا جنوں بن کر ہماری آنکھوں میں اس وقت بھی جاگتا تھا؛ جب ہم سوجاتے تھے۔ وہ اب بھی آتا ہے ۔ عوام کے پاس صرف یہ سننے کے لیی کہ:
’’تیرے عاشق زندہ ہیں اور بہت شرمندہ ہیں‘‘