A Wild Flower Explains

ایک زرد پھول کی آپ بیتی!
اعجاز منگی


وہ جہاں کھلا؛ وہ اس کا دیس نہیں تھا۔
وہ تو ایک بیج کی صورت پردیسی پرندے کے پروں سے اس وقت الگ ہوکرجھاڑی میں گرا تھا؛ جب اس پرندے کو گولی لگی تھی۔ اس لمحے اسے اپنی چوٹ سے زیادہ اس پرندے کا دکھ ہوا تھا؛جو ہوا میںلاتیں ہلا کر ؛ہمیشہ کے لیی سو گیا۔
اور کچھ دیر کے بعد دو آدمی دوڑتے ہوئے آئے۔ ایک کے ہاتھ میں بندوق تھی اور دوسرے نے اس پرندے کو اٹھا لیا۔جس کے سفید پر سرخ ہو چکے تھے۔پھر وہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ’’یہ حلال ہے یا حرام؟‘‘
اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ تو بس دیکھتا رہا۔ اپنا وہ دوست جس کی چونچ سے خون کے قطرے گر کر ایک اجنبی زمین میں جذب ہوتے رہے۔وہ بیج دیکھتا رہا اپنا ہمسفر جو کچھ دیر پہلے ایک لمبی پرواز تھا۔ ایک ایسی آواز تھا؛ جس میں بہت بولیاں تھیں۔مگر اب تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔اور شروع ہو چکا تھا؛ ایک بیہودہ بحث!
پھر انہوں نے اسے اپنے فتراک میں پھینکا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔ لیکن جھاڑی کی ایک سوکھی ہوئی ٹہنی پر پڑا بیج اپنے دوست کے خون کے قطرے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ’’انسان کتنے برے ہیں‘‘
پھر ایک دن آسمان کا رنگ تبدیل ہو گیا اور بہت زور کی بارش پڑی۔اس بارش میں نہ صرف مقتول پرندے کے خشک خون کے نشان دھل گئے مگر وہ بیج بھی جھاڑی کی ٹہنی سے الگ ہوکر نیچے گر گیا اور پہلی بار اس کی ملاقات زمین سے ہوئی۔
زمین نے اس کو اپنی گیلی گود میں لیکر پوچھا کہ ’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘
بیج نے اس کو بتایا کہ ’’وہاں سے جہاں بہت پھول کھلتے ہیں۔‘‘ پھر وہ پردیسی بیج اس کو اپنے اس دیس کے بارے میں بتاتا رہا جہاں نیلی جھیلوں پر وہ سفید ہنس اڑتے ہیں؛ جنہیں مارنا؛ جرم ہوتا ہے۔مٹی کی آغوش میں پڑا ہوا وہ بیج بتاتا رہا کہ کس طرح ایک پرندے کے ساتھ یہاں آیا اور اس کا وہ دوست کس طرح گولی کا نشانہ بن گیا۔
مٹی نے ماں جیسی شفقت کے ساتھ اس کو محبت سے سہلایا اور بتایا کہ ’’یہ وادیِ سندھ کا ایک گاؤں ہے۔جس کے کھیت میدانِ جنگ کی طرح ہیں۔ جہاں پہلا قتل معصومیت کا ہوتا ہے۔ مگر تم سو جاؤ۔‘‘
بیج سو گیا اور ایک طویل نیند کے بعد جب اس کی آنکھیں کھلی تب وہ ایک انکر بن چکا تھا۔پھر وہ دھوپ اور چھاؤں میں بڑا ہوتا گیا اور ایک دن وہ ایک خوبصورت زرد پھول بن کر لہرانے لگا۔ان خاردار جھاڑیوں میں جو اس کا قید بھی تھیں اور تحفظ بھی!
ان جھاڑیوں میں جواں ہوتے ہوئے اس نے ایک چھوٹی سی دنیا جیسے گاؤں کا ہر رنگ دیکھا۔اس نے دیکھا کہ جب شبنم سے دھلی ہوئی صبح پھوٹتی تھی تو کہر کے لباس میں اس گاؤں کا منظر وکٹورین دور کے کسی دیوانے مصور کا خواب بن جاتا تھا۔اور شام تو ویسے بھی بہت خوبصورت ہوتی تھی۔ وہ درختوں کے طویل ہوتے ہوئے سائے۔پرندوں کی چہچہاہٹ؛ مویشیوں کے گلے میں گاتی ہوئی ٹلیاں؛اور گھاس کو اپنے سروں پر رکھ کر گھروں کی طرف آنے والی عورتوں کی عجیب مگر بہت دلچسب باتیں۔ اور وہ بچے جو اپنے کتوں سے دوڑتے ہوئے کھیلتے تھے۔
چڑھتے ہوئے نشے جیسی کیفیت میں اس زرد پھول نے لہرا کر اپنے آپ سے کہا کہ ’’انسان اتنے بھی برے نہیں ہوتے!‘‘
مٹی نے سنا۔ کچھ سوچا۔ اور مسکرانے لگی!
وہ رات بہت خوبصورت اور خطرناک تھی؛ جب آسماں سے چاندنی کا آبشار بہہ رہا تھا۔اس رات کھیتوں کو پانی دینے والے ایک نوجوان کسان کی سیٹی نیند میں ڈوبے گاؤں کے اوپر گولی کی طرح گذرتی گئی۔ اور اس زرد پھول کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کچھ دیر کے بعد جھاڑی کے قریب ایک سائے کو آتے ہوئے دیکھا۔ ایک سہما ہوا اور تیزی سے سانس لینے والا سایہ؛ جب اس کے قریب پہنچا تو حیران رہ گیا کہ یہ تو وہی لڑکی تھی جس کے بارے میں گذشتہ دن بھن بھن باتیں اس کے کانوں میں پڑتی رہیں۔ گاؤں کی عورتوں کا خیال تھا کہ ’’اس لڑکی کا بچنا بہت مشکل ہے‘‘ کسی نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ کسی نے جواب دیا کہ ’’وہ بہت خطرناک خواب دیکھنے لگی ہے‘‘!
رات کے وقت انسان سوتے ہیں اور خواب جاگتے ہیں۔ وہ لڑکی خواب بن کر ایک خواب سے ملنے آئی تھی۔ وہ زرد پھول دو خوابوں کی ملاقات دیکھتا رہا۔ ایک خواب دوسرے خواب کے شانے پر سر رکھ کر کہہ رہا تھا کہ :
’’تم اپنی ماں کو ہمارے گھر کب بھیجو گے؟‘‘
دوسرا خواب خاموش تھا۔
پہلے خواب نے پوچھا ’’چپ کیوں ہو؟‘‘
دوسرے خواب نے کہا ’’سوچ رہا ہوں‘‘
’’کیاسوچ رہے ہو!‘‘
یہ پوچھتے ہوئے پہلے خواب نے اپنا سر اس کے شانے سے اٹھایا اور اس کی ان آنکھوں دیکھنا شروع کیا جو چاندنی میں زہر کے کٹوروں کی طرح چھلک رہیں تھیں۔
’’سوچ رہا ہوں کہ ہماری زندگی ایسی کیوں ہے؟‘‘دوسرے خواب نے تلخی کے ساتھ کہا۔
’’غصہ مت کرو‘‘ پہلے خواب نے کہا ’’زندگی ہوتی ہی ایسی ہے‘‘ اور پھر اس کے شانے سے لگ گیا۔
’’وہ کھیت جن کو میں اپنے بچپن سے سینچتا آیا ہوں؛ وہ میرے کیوں نہیں ہیں؟ جن کو میں سمجھتا ہوں۔ جو مجھے سمجھتے ہیں۔ جس کے وجود کا ہر سایہ مجھ سے جڑا رہا ہے۔ جن سے میں الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اب ان کے لیی مجھے کہا جا رہا ہے کہ انہیں چھوڑ دو!
میں نہیں چھوڑ سکتا۔ نہ تمہیں اور نہ یہ کھیت! تم میرے خاندان کی کھیتی ہو اور ہمارے خاندان کو عزت کے ساتھ جینے کے لیی یہ کھیت چاہئیں۔
لیکن ہم سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کھیت ہمارے نہیں۔ ہمارے کھیتوں پر دو وڈیرے آپس میں لڑ رہیں ہیں۔ہر وڈیرے کا دعوی ہے کہ کھیت اس کے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ سب کو چھوڑو۔ ان کھیتوں سے پوچھو کہ یہ کس کے ہیں؟‘‘
پہلے خواب نے نخرے سے اپنے بالوں کی لٹ دوسرے خواب کے گالوں پر مارتے ہوئے کہا کہ’’گاؤں والے ٹھیک کہتے ہیں کہ تو پاگل ہے۔بھلا کبھی کھیت بھی بولتے ہیں!!؟‘‘
’’مجھ سے تو بولتے ہیں۔ مگر اوروں سے نہیں بولتے۔ عورتوں کی طرح!اور یہی توالمیہ ہے کہ یہ خاموش رہتے ہے۔دنیا کے سامنے یہ گونگے ہو جاتے ہیں۔کوئی بات نہیں کرتے۔ایسے نظر آتے ہیں جیسے یہ کمزور ہی نہیں بلکہ مردہ ہیں۔حالانکہ میں جانتا ہوں ان کی طاقت کو! جب میں ان میں ہل چلاتا ہوں تب یہ ناراض دوست کی طرح اپنی مٹی کی مٹھی نہیں کھولتے۔ کتنی طاقت لگانی پڑتی ہے مجھے!
جب میں ان میں چاول کی فصل بوتا ہوں تب یہ ہریالی کی صورت اپنے وجود کی طاقت کا اظہار کرتے ہیں۔اس وقت یہ کتنے اچھے لگتے ہیں جب ان میں کپاس کا فصل جھاگ والے سمندر کی طرح لہراتا ہوا گاتا ہے۔
میں ان کی سب زبانیں سمجھتا ہوں۔جب یہ موسمِ خزاں میں اداس ہو جاتے ہیں۔اور سردی میں کہر کی چادر اوڑھ کر سوجاتے ہیں۔
اور یہ مجھ سے باتیں کرتے ہیںرات کو دیر سے جھینگر کی صورت! مجھ سے پوچھتے ہیں تمہارے متعلق کیا آج تیری دوست نہیں آئی! آج کی رات کس طرح کاٹو گے؟
یہ صرف میرے ہی نہیں بلکہ میری آنے والی نسلوں کے اپنے ہیں۔مگر حکومت کاغذ دیکھتی ہے۔ کیا زمین سے رشتہ کاغذ بیان کرسکتا ہے؟جس طرح تمہارے جسم پر میرے ہونٹوں اور ہاتھوں کی تحریر ثابت کر سکتی ہے کہ تم میری ہو؛ ویسے ہی ان پر چلے ہوئے میرے ہاتھوں کے ہل اور قدموں کے نشانوں کی تحریر سے ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ کھیت کس کے ہیں۔ مگر حکومت اس حقیقی تحریر کو نہیں مانتی۔وہ کہتی ہے کہ کاغذ دکھاؤ!
کیا میری ماں اور میرے باپ یا میرے دادا اور میری دادی کے درمیاں کاغذ کا رشتہ تھا؟
مگر لوگ سات سمندر پار سے آتے ہیں۔ انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کھیت ان کے ہیں!!۔کھیت تو ان کے ہیں جو کھیتوں کی زبان سمجھتا ہے۔ یا کھیت ان کی خاموشی کو سمجھ سکتے ہیں۔
جھاڑیوں میں جھولتا ہوا زرد پھول ساری باتیں سنتا رہا!
پھر اس نے وہ دن بھی دیکھا جب انسان خاموش تھے اور بندوقیں بول رہی تھیں۔ ہر گولی گرجدار آواز کے ساتھ یہ دعوی کر رہی تھی کہ یہ کھیت میرے ہیں!
اور کھیت خاموش تھے۔
اورپھرایک گولی خواب جیسے کسان کے سینے سے پار ہوگئی اور وہ اسی جگہہ گر کر تڑپنے لگا؛ جہاں پردیسی پرندہ گرا تھا۔مگر وہ پرندہ نہیں؛ ایک انسان تھا۔ اس کے خون کی پھوار جھاڑی کو بھی رنگین کر گئی۔ اور ایک بوند اس زرد پھول پر بھی گری؛ جس کو دوسرے دن وہاں سے گذرتی ہوئی خواب جیسی لڑکی نے دیکھا اور رک گئی۔ اس نے جھک کر اس پھول کو توڑا اور اپنے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے اس کو چوما۔اور پھر اس کو مٹھی میں لیکر اپنے گھر روانہ ہوگئی!
اتنی سی مختصر تھی ایک زرد پھول کی داستانِ حیات!