Ajrak

اجرک
اعجاز منگی


کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چینی سیاح شیو سانگ؛ سندھ کے کوٹیشور ساحل پر اترا۔ اس وقت موسم کون سا تھا؟ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ مگر وہ شام کا وقت تھا اور دراوڑ عورت کے جسم جیسی سمندر لہروں پر ڈھلتا ہوا سورج کسی غدار کے بوسے کی طرح نظر آ رہا تھا۔
شیو سانگ نے ایک شاعر سے پوچھا کہ ’’کیا اس دیس کا نام سندھ ہے؟‘‘
شاعر نے جواب دیا ’’ہاں اس دیس کانام سندھ ہے‘‘
شیو سانگ نے پوچھا کہ’’میں نے سنا ہے کہ اس دھرتی کے درختوں میں سونے کے بیر اگتے ہیں؟‘‘
شاعر نے جواب دیا کہ ’’تم نے ٹھیک سنا ہے ۔ یہاں کے درختوں میں سونے کے بیر اگتے ہیں۔ مگر میں تمہیں بتاؤں کہ تھر کی ریباری عورتوں کے گال اس سونے سے کہیں زیادہ سنہرے ہیں اور جب شام کے سورج کی کرنیں ریت پر مچلتی ہیں تو پورا صحرا سونا ہو جاتا ہے‘‘
شیو سانگ نے پوچھا کہ ’’میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہاں بہت عمدہ ریشم بنتا ہے‘‘
شاعر نے جواب دیا کہ ’’ہاں۔ مگر جب سومریاں ’’سومرا گھاٹ‘‘ پر پانی بھرنے کے بعد بیٹھ جاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ریشم کے تھان کھول دیی ہیں‘‘
شیو سانگ نے کچھ گھبراتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے سنا ہے کہ یہاں ’’جکڑیاں‘‘ گیت گائے جاتے ہیں۔ وہ گیت کہیں مجھے جکڑ تو نہیں لینگے؟ مجھے اپنے دیس واپس جانا ہے‘‘
شاعر نے شیو سانگ سے کہا کہ ’’ہاں۔ وہ تمہیں جکڑ لینگے۔ اور اگر تم نے اپنے آپ کو آزاد کر بھی لیااور واپس بھی لوٹ گئے ؛ تب بھی تیرا دل یہاں جکڑا رہے گا‘‘
کہتے ہیں یہ سن کر چینی سیاح شیو سانگ واپس چلا گیا۔ شام کے وقت۔ جب سمندر پر غروب ہوتا ہوا سورج؛ غدار کے بوسے کی طرح نظر آ رہا تھا۔
’’راج گھاٹ پر چاند‘‘ میں تاریخ کا یہ افسانوی واقعہ پڑھنے کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ حیرت ہے کہ شیو سانگ نے شاعر سے اس اجرک کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا؛ جو سندھ کا تہذیبی پرچم ہے۔
اگر شیو سانگ شاعر ِ سندھ سے اجرک کے بارے میں یہ پوچھتا کہ ’’میں نے سنا ہے کہ یہاں پر ایک چیز کو اجرک بھی کہا جاتا ہے! وہ کیا ہے؟‘‘
تو شاعر اسے ضرور کہتا کہ ’’یہ وہ لباس ہے؛ جو ہمیں مہد میں ملتا ہے اور لحد تک ہمارے ساتھ چلتا ہے۔
جب ایک لڑکی عمر کے اس راستے پر قدم رکھتی ہے جہاں اس کے جسم کی انگڑائیاں بولنے لگتی ہیں تو اس کی ماں اس کے سر پر ایک سفید ستاروں والی ایک سرخ شال رکھتی ہے؛ جس کو ہماری زبان میں اجرک کہا جاتا ہے۔وہ اجرک اس کا پہلا پردہ ہوتا ہے۔ وہ اجرک اس لڑکی کا بہت کچھ چھپا لیتا ہے۔ اس کی آنکھوں کی وہ ادائیں بھی؛ جن کے سہارے وہ اپنے جیون ساتھی کی چوری چوری تلاش کرتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی وہ باتیں اس اجرک کے سائے میں اس دنیا سے چھپی رہتی ہیں؛ جو باتیں صرف آنکھیں ہی سمجھتی ہیں۔ اور جب سردراتوں میں وہ اپنے محبوب سے ملنے جاتی ہے تو یہ اجرک اس کو موسم اور ماحول کی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور اگر اس کی محبت کے مقدر میں کلہاڑی لکھی ہوتی ہے تو یہی اجرک اس کی لاش کو ڈھانپتا ہے؛ جس کو ’’کاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس دیس میں ہر محبت کرنے والی لڑکی ’’کاری‘‘ نہیں بنتی۔ وہ لڑکیاں جو اپنے جذبات کو امید کے سہارے سنبھال لیتی ہیں؛ مگر جب چاندنی راتوں میں انہیں انگلی میں پہنا ہوا پیار کا چھلا کاٹنے لگتا ہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں تو وہ آنسو ان کے اجرک میں جذب ہو جاتے ہیں۔
اور جب اس دیس کی لڑکیوںکو اپنے بابل کا آنگن چھوڑ کر پیا کے دیس جانا پڑتا ہے تو باپ کا اجرک اس کے سر پر شفقت کے سائے کی طرح اس اعتماد کے ساتھ جھولتا ہے؛ جیسے وہ اسے زندگی کی ہر سردی اور گرمی سے محفوظ رکھے گا۔ وہ اجرک جس کو لپیٹ کر کی چیل جیسی چبھتی آنکھوں سے مار پیٹ اور پیار محبت کے نشان چھپا لیتی ہے۔ اور جب اس کو لگتا ہے کہ وہ شوہر کے ہوتے ہوئے بھی اس دنیا میں اکیلی ہے تو وہ اجرک اوڑھ کر گاؤں میں پیر کے مذار پر جاتی ہے اور وہاں اسی اجرک کے کونے سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر منت کے طور پر مذار کے درخت کی ٹہنی سے باندھ دیتی ہے۔ اور پھر جب امید اس کے وجود میں آشیانہ بناتی ہے تو وہ اسی اجرک سے اسے نظرِ بد سے چھپا کر چلتی ہے۔ پھر ایک دن اس کی گود میں ایک ستارہ چمکتا ہے اور مندیں ہوئی آنکھوں اور بھنچیں ہوئی مٹھیوں والا ایک بچہ اس کے بانہوں میں ’’مبارک‘‘ کے ساتھ دیا جاتا ہے؛ جس کو وہ اجرک میں لپیٹ کر سینے سے لگاتی ہے۔
اور وہ بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے اور اس کے چہرے پر جوانی کی بہار بھورے بالوں کے ساتھ آگ کی لو کی طرح لہراتی ہے اور اس کے قدم زمین پر ترتیب کے ساتھ نہیں پڑتے؛ تب وہ اپنے کندھوں پر اجرک کو ایک ایسی خاص اسٹائل کے ساتھ رکھتا ہے کہ اس کے کندھے پر رکھی ہوئی مست کلہاڑی کسی کو نظر نہ آئے۔یہ وہی اجرک ہوتا ہے جس ڈور بنا کر کسی شرمیلی لڑکی کو اپنے اور کھینچتا ہے۔جب وہ فراق کے موسم میں کسی درخت کے سائے میں اکیلا بیٹھتا ہے تو اسی اجرک کو اپنی پیٹھ اور گھٹنوں سے ’’کانبھ‘‘ کی طرح باندھ کر سوچتا ہے کہ وہ کیا کرے؟ اس کو بھگا کر یہ گاؤں چھوڑ جائے یا فقیر بن جائے!!؟
پھر جب وہ دولہا بنتا ہے تو اس کے کندھوں میں ایک اجرک ڈال دیا جاتا ہے۔وہ اجرک جس کے سائے میں وہ اپنی عزت اور محبت کو لے آتا ہے اور پھر اپنا گھر بناتا ہے۔جب گھر بنانے کی محنت کے دوراں اس کا پسینہ بہتا ہے تو وہ اس کو اسی اجرک سے خشک کرتا ہے۔
اس کا وہی اجرک اپنے خلاف ہونے والے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست بن کر وڈیرے کے پیروں پر گرتا ہے اور وڈیرہ اس کے اسی اجرک کو روند کر آگے بڑھ جاتا ہے۔اور پھر وہ اپنے میلے اجرک کو جھاڑ کر اپنے شانوں پر رکھتا ہے اور کھانا کھائے بغیر گھر کے آنگن میں وہی اجرک لپیٹ کر لیٹ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اب وہ کیا کرے؟اگر اس مزاج میں گرمی کا مقدار زیادہ ہوتا ہے تو وہ گاؤں بدل دیتا ہے اور اسی اجرک کو نقاب بنا کر ایک رات اپنے گاؤں میں داخل ہوتا ہے اور چوکیداری کرنے والے کو کہہ جاتا ہے کہ ’’سنو! اپنے وڈیرے سے کہہ دینا کہ موت اور مہمان اچانک آتے ہیں؛ میں بھی کسی دن موت بن کر اس کا مہمان بنوں گا‘‘
لیکن اگر اس کی طبیعت میں ترشی نہیں ہوتی وہ وڈیرے کو سمجھانے اور اپنا حق لینے کے لیی بادشاہ سلامت کے راستے میں اسی اجرک کو بچھونا بنا کر فریادی فقیرکی طرح بیٹھ جاتا ہے!‘‘
اجرک کی اس طویل کتھا کو صبر کے ساتھ سنتے ہوئے اگر شیو سانگ شاعرِ سندھ سے پوچھ لیتا کہ ’’پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘
تو شاعرِ سندھ اس کو ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اسے بتاتا کہ ’’پھر وہی ہوتا ہے جو فقیروں اور بادشاہوں کے درمیاں ہوتا رہتا ہے۔نہ فقیر کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ بادشاہ سلامت کی حضور میں اپنی فریاد پیش کرے اور نہ بادشاہ کی نظر سراپا فریاد بنے ہوئے فقیر پر جاتی ہے۔پھر ایک دن وہ فقیر اس بادشاہ سے مایوس ہوکر خدا کی دربار میں فریاد لے جانے کے لیی اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے؛ اور اس کے جسد خاکی پر وہی اجرک ڈالی جاتی ہے؛ جس کا پلو ہٹا کر لوگ دیکھتے ہیں کہ ’’کس کی لاش ہے؟‘‘
مگر نہ تو چینی سیاح شیو سانگ نے شاعر ِ سندھ سے اجرک کے بارے میں پوچھا اور نہ اس نے اسے کچھ کہا۔ اس لیی تاریخ میں یہ بات بیان ہونے سے بچ گئی۔
اس دن جب کراچی پریس کلب کے سامنے ایک وڈیرے ظلم کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوا ہاری مر گیا اور میڈیا کے خوف سے وزراء پشیمانی اور پریشانی کے ساتھ دوڑے آئے؛ تب مجھ سمیت بہت سارے افراد کو اس سانحہ پر’’پیرِ شہر‘‘ کی پراسرار خاموشی کے حوالے سے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔
اور حیرت تو مجھے اس وقت بھی نہیں ہوئی جب انصاف کے لیی بھوک میں بلک کر مر جانے والے ولی داد کے جنازے پر پڑا ہوا اجرک ہوا میں جھول رہا تھا۔
مجھے صرف افسوس ہوا؛ اس بات کا کہ صدیاں بیت گئی ہیںمگر نہ اجرک کا رنگ تبدیل ہوا ہے اور نہ بادشاہوں کا ڈھنگ اور نہ سندھیوں کے سنگ قسمت کا سلوک!