SMS

ایس ایم ایس
اعجاز منگی


اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا میڈیا کون سا ہے تو میں جاپان کے زیادہ شایع ہونے والے اخبار ’’یومی یوری شمبن‘‘ یا جرمنی کے ’’بائلڈ‘‘ چین کے ’’کین کاؤ زیازی‘‘ یا برطانیا کے ’’دی سن‘‘ کا نام نہیں لوں گا۔ حالانکہ ورلڈ ایسوسےئیشن آف نیوز پیپر کے مطابق یہ اخبارات کثیر الاشاعت ہیں۔ لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کے ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ سے لیکر ترکی کے ’’پوستا‘‘ تک دنیا کے ایک سو ٹاپ نیوز پیپر بھی اتنے نہیں پڑھے جاتے جتنا وہ میڈیا جس کو ہم ’’ایس ایم ایس‘‘ کہتے ہیں۔
یہ میڈیا صرف پیغام رسانی کا ذریعہ نہیں۔ حالانکہ بہت سارے لوگوں کے لیی یہ میڈیم دلوں کے بیچ بجنے والے اس ساز کی طرح ہے؛ جس کے نظر نہ آنے والے تار انگلیوں کی سریلی سرگرمی سے محبت کی موسیقی کو جنم دیتے ہیں۔موبائل فون کا وہ چھوٹا سا ’’کی پیڈ‘‘ کسی پیانو سے کم نہیں ہوتا؛ جس پر ایک انسان اپنے دل کی دھڑکن اپنی انگلیوں میں منتقل کر کے کچھ حروف لکھتا ہے اور جادو کی طرح وہ حروف کسی اور ہاتھ کے موبائل سیٹ پر کھل جاتے ہیںایک خوبصورت سے رنگ ٹون کے ساتھ!
معلوم نہیں کہ ’’شارٹ میسیج سروس‘‘ کے معرفت کتنے دل ٹوٹے اور کتنے جڑ گئے ہیں!! مگر یہ سروس صرف دلوں کو توڑنے اور جوڑنے تک محدود نہیں۔یہ ایک الگ دنیا نہیں تو کم از کم ایک الیکٹرانک اخبار ضرور ہے؛ جس میں نہ صرف ملکی اور بین القوامی خبریں مل جاتی ہیں؛ بلکہ قسمت کے حال سے لیکر موسم کے احوال تک ہر قسم کی سچی جھوٹی اطلاع کے لیی یہ ایک موثئر ذریعہ بن گیا ہے۔
جہاں تک اس سروس کے معرفت پروپیگنڈہ کا تعلق ہے تو اگر یہ میڈیا سیاسی حوالے سے اتنا اثر انگیز نہیں ہوتا تو حکومت وقت عدلیہ کی بحالی کے لیی کیی جانے والے لانگ مارچ کے دوراں اسلام آباد اور پنڈی میں اس سروس کو دو دن کے لیی معطل نہیں کرتی۔
اس سروس میں صرف ایسے میسیج نہیں آتے جو آپ کاموڈ خراب کردیں؛ لیکن جب صبح کو ایک خوبصورت نقش کی صورت پرندے کی طرح ایک میسیج آپ کو چہچہا کر جگاتا ہے تو آپ کو جاگ جانے میں کس قدر آسانی حاصل ہوجاتی ہے!!کیوں کہ اس وقت آپ کی نظروں میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کرچیوں جیسی سورج کی کرنیں نہیں چھبتیں؛ بلکہ شبنم میں بھیگا ہوا ایک گلاب چہرہ موبائل کی اسکرین پر ابھر آتا ہے اور آپ کو بتاتا ہے کہ:
’’خوشی ایک تتلی کی طرح ہوتی ہے۔اگر تم اس کے پیچھے بھاگوگے تو وہ تم سے اڑکر دور چلی جائے گی۔ لیکن اگر تم خاموشی کے ساتھ ایک جگہہ ٹھر جاؤ تو ممکن ہے کہ وہ تمہارے کندھے پر آکر بیٹھ جائے۔تمہارے لیی خوشیوں کی بہت ساری تتلیوں کی تمنا کے ساتھ: صبح بخیر!‘‘
ہمیں تو ایسے ایس ایم ایس نہیں آتے مگر جب کراچی سے احمد ہمیں یہ الفاظ ’’سینڈ‘‘ کرتا ہے کہ ’’جاؤ قرارِ بے دلاں۔۔۔۔صبح بخیر شام بخیر‘‘ دل پر پڑا بہت سارا بوجھ کم ہوجاتا ہے۔
یہ تو سات الفاظ ہیں؛ سات سمندروں جیسے۔ مگر کبھی تو شبنم کے تنہا قطرے جیسے صرف ایک لفظ کے ساتھ ہی دل کا کنول کھل اٹھتا ہے۔جب کسی کی طرف سے آتا ہے کہ ’’ہائے‘‘! اور سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا مفہوم انگریزی والا ہے کہ اردو الا!!
اور جب کوئی رات دل پر سیاہ بوجھ بن کر ٹھر جاتی ہے اور نہ تو گلزار کے الفاظ میں ’’سلی سلی ‘‘ کٹتی ہے اور نہ مسرت نذیر کے والد خواجہ نذیر کے پنجابی کافی کی طرح ’’دھمی دھمی‘‘ گزرتی ہے۔ جب وہ زخم کے نیل کی طرح جم سی جاتی ہے تو اس کیفیت میں ’’ایس ایم ایس ‘‘ کی صورت لیکر آنے والی یہ دعا حوصلہ بڑھانے کے سلسلے میں کس قدر مشکل کشائی کرتی ہے کہ:
’’اے خدا! میں اس شخص کو درپیش سارے مسائل کے متعلق نہیں جانتا۔ مگر تجھے اس کی تکالیف کا علم ہے۔
میں نے تو صرف اس کی خاموشی کو سنا ہے مگر تو اس کی گریہ سے آگاہ ہے۔
میں نے تو اسے ہمیشہ ہنستے ہوئے سنا ہے مگر تم نے اس کے آنسو دیکھے ہیں۔
میں نے تو اسے ہمیشہ دیتے ہوئے ہی دیکھا ہے مگر تجھے تو معلوم ہے کہ اس سے کیا کچھ چھن چکا ہے۔
میں نے تو اس کا صاف چہرہ دیکھا ہے مگر تم اس کی روح پر لگے ہوئے داغوں سے واقف ہو!
مجھے اس کے ایمان کا علم ہے اور تو اس کے شکوک کو جانتا ہے!
میں اس کے لیی تمہاری درگاہ میں دعاگو ہوں کہ تم اس کو سب کچھ دو جس کی اس کو ضرورت ہے۔‘‘
اور اس وقت علامہ اقبال کے اس خیال کے آگے عقیدت کا سر مسرت کے ساتھ جھک جاتا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ:
’’خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر‘‘
ہاں!جب ایک ذہین نوجوان سن زو کی کتاب کے یہ الفاظ ایک جذبے کے ساتھ بھیجتا ہے کہ’’پرانے وقتوں کے اچھے جنگجو پہلے اپنے آپ کو ناقابلِ شکست بنا لیتے تھے اور پھر دشمن کو شکست دینے کے لیی صبر کے ساتھ وقت کا انتظار کرتے تھے‘‘
مگر بیوفائی کے درد کی نوعیت بہت مختلف ہوتی ہے۔ لیکن یہ شعر ایس ایم ایس کی میڈیا سے ایک مرہم کی طرح آتا ہے اور تکلیف والے دل کی اذیت کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’ابھی وہ درد باقی ہے
اگرچہ وقت مرہم ہے
مگر کچھ وقت لگتا ہے
کسی کو بھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
ابھی کچھ وقت لگنا ہے
ابھی وہ درد باقی ہے
میں کیسے نئی الفت میں
اپنی ذات گم کرلوں
کہ میرے جسم و وجداں میں
ابھی وہ فرد باقی ہے
ابھی اس شخص کی مجھ پر
نگاہِ سرد باقی ہے
ابھی وہ عشق کے رستوں کی
مجھ پر گرد باقی ہے
ابھی وہ درد باقی ہے
ابھی وہ فرد باقی ہے‘‘
بھیجنے والا نہیں جانتا کہ کسی کو اس وقت ان الفاظ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے جب وہ تنہا بغاوت کرتا ہے اور دنیا اس کے خلاف ہوجاتی ہے؛ تب وہ ان الفاظ کی قدر کو محسوس کرتا ہے کہ’’لاکھوں دوست بنانا بڑی بات نہیں مگر بڑی بات یہ ہے کہ آپ کا ایک دوست اس وقت بھی آپ کے ساتھ ہو جب لاکھوں لوگ آپ کے خلاف ہوں‘‘
اور جب عظمت جیسا اچھا نوجوان مدرسے کی دیوار سے پیٹھ لگا کر آپ کو ایس ایم ایس کی معرفت بتاتا ہے کہ ہمارے نبی صلعم کی حیات کس طرح کی تھی تو اس وقت انسان میں ایک شعور کی روشنی جل اٹھتی ہے۔
کیوں کہ انسان تو روزی کی تلاش میں پھرتا ہے۔ اسے بسا اوقات غم جاناں سے غمِ روزگار زیادہ دلفریب محسوس ہوتا ہے۔ مگر جب محمودہ بتاتی ہے کہ ’’چوہے اور بلی کی دوڑ میں چوہا اکثر جیت جاتا ہے ۔ کیوں کہ بلی تو کھانے کے لیی دوڑتی ہے اور چوہا جان بچانے کے لیی۔یاد رکھو! مقصد ضرورت سے زیادہ اہم ہوا کرتا ہے‘‘ ایسے الفاظ دوڑتے ہوئے انسان کو ذرا سا ٹھرا کر تھوڑی سی دیر میں بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔
یہ سب کچھ اور اس سے بہت زیادہ ؛ اس میڈیم پر ہوتا ہے جس کو ’’ایس ایم ایس‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ایس ایم ایس جس کی وجہہ سے اکثر لوگوں کو انگریزی نہ آنے کے باوجود رومن اردو لکھنا آگئی ہے۔
اگر آج سے کچھ عرصہ قبل کوئی اردو کو رومن میں لکھنے کا تقاضا کرتا تو اردو کے علماء اس کا برا حشر کردیتے۔ اسے اردو کے خلاف ایک سازش قرار دیتے۔ مگر کون جانتا تھا کہ ایک روشن ذہن اپنے محنت کش ہاتھ کے ساتھ ہندکو زبان کا یہ معصوم شعر رومن میں لکھے گا کہ:
’’اج دی رات میں کلاں واں
کوئی نہیں مرے کول
اج دی رات تے سونہیاں ربا
نیڑے ہوکے بول‘‘
مگر ایک ایس ایم ایس ایسا بھی ہوتا ہے ؛ جو بالکل خالی ہوتا ہے۔ جس کو ایس ایم ایس کی زبان میں ’’بلینک میسیج‘‘ بولا جاتا ہے۔ اس ایس ایم ایس میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ بغیر کسی تعلیم کے ہمارے لوگ ایس ایم ایس میڈیا کی معرفت ’’خاموشی کی زباں‘‘ لکھنا اور پڑھنا سیکھ گئے ہیں۔