Bhutto

بھٹو
اعجاز منگی


جس دن بھٹو کی برسی تھی؛ اس دن تقریبا سارے لکھنے والوں نے لکھا۔ اور جن کو لکھنا نہیں آتا؛ انہوں نے بھی کسی نہ کسی سے لکھواکر چھپوایا۔ اب پھر اس کی بات بھول کی دھول میں اڑتی جا رہی ہے۔ اس لیی ضروری ہے کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔اس سوال کو ٹھرایا جائے کہ ’’وہ کون تھا؟ کیا چاہتا تھا؟ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ کیوں ہوا۔۔۔۔۔!!!؟؟‘‘
اس حوالے سے میں اپنی بات سارنگ کے اس خیال شروع کرتا ہوں کہ:
’’وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے تھا جو اپنے دل کی بات باآوازِ بلند سنتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو دنیا کو تبدیل کردیتے ہیں یا دیوانے ہوجاتے ہیں‘‘
اور اس شخص کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ اس نے کچھ کچھ تبدیل کیا اور کچھ کچھ دیوانہ ہو گیا۔اور یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ دنیا کو تبدیل کردینا مشکل نہیں۔اور دیوانے تو ویسے بھی ہر اذیت سے ماورا ہوتے ہیں۔ مگر وہ نہ تو مکمل فرزانہ بنا اور نہ دیوانہ۔ بھٹو بیچ کی بات بن کر رہ گیا۔
کسی نے کتنا اچھا کہا کہ:
’’عقل کی گتھیاں سلجھا چکا میں
میرے مولا مجھے صاحبِ جنوں کر‘‘
یہ شعر مجھے جی ایم سید نے سنایا تھا۔ نہیں معلوم کے کس کا ہے۔ مگر بھٹو جیسے انسان کے دل سے یہ دعا ضرور نکلی ہوگی۔ کیوں کہ بھٹو کے مخالف اور اس کے حامی سب یہ سمجھتے تھے کہ بھٹو سراپا عقل ہے۔ مگر اس بات کا احساس صرف اس کا تھا کہ وہ انتہائی عقل اور مکمل دیوانگی کے سرحد پر رہنے والا انسان ہے۔بالکل فیض کی اس فریاد جیسا کہ’’ہم جو اس صف میں تھے اور نہ اس صف میں تھے‘‘ وہ بیچ میں تھا اور دونوں اطراف کو افسوس بھری آنکھوں سے دیکھتا رہا۔
لیکن یہ کوئی اعزاز نہیں۔ ایک اذیت ہے۔اس اذیت کو اس نے ساری عمر محسوس کیا۔
یہ بہت آسان بات ہے انسان میکاولی بن جائے۔ بھٹو کو میکاولی بہت پسند تھا۔ مگر اس کو منصور سے بھی محبت تھی۔ اس کی ذات میں منصور اور میکاولی ایک ساتھ آگئے۔اور ان دونوں کی کشمکش میں بھٹو ساری عمر ٹوٹتا اور بکھرتا رہا۔مگر اس کی زندگی میں کوئی ایسا کبیر نہیں آیا؛ جو اسے دیکھ کر کہتا کہ:
’’چلتی چکی دیکھ کر کھڑا کبیرا روء
دو پاٹوں کے بیچ میں ثابت بچا نہ کوئ‘‘
اس طرح بھٹو فرزانگی اور دیوانگی کے بیچ میں مسلسل پستا رہا۔نہ وہ فرزانوں کی کلب کا ممبر بن سکا اور نہ وہ دیوانوں کے میخانے کا رند بن پایا۔ اس کو انقلابیوں نے بھی کہا ’’جا ؤ؛تم ہم میں سے نہیں ہو۔‘‘ اور اس کو سامراجیوں نے بھی اسے یہ کہہ کر اپنے آپ سے الگ کردیا کہ ’’تم ہمارے دوست نہیں دشمن ہو۔‘‘اس لیی اس نے اپنی الگ دنیا بنانے کا فیصلہ کیا۔وہ دنیا جس میںہوش بھی تھا اور بے ہوشی بھی۔کیوں کہ وہ بیچ کی دنیا تھی۔ اس میں عیاری بھی تھی اور بیحد معصومیت بھی۔
مارکس کے فلسفے میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ’’متضاد آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں‘‘
بھٹو کی ذات میں یہ تضاد بہت متوازن انداز سے موجود رہا۔ وہ ظالم بھی تھا اور مظلوم بھی!بے حس اور بہت حساس! ڈرپوک اور بہت ہی بہادر!اس میں حد درجہ کا غرور تھا اور وہ انکساری کا ایک ایسا پیکر بھی تھا؛ جو جھک کر اپنی مٹی کو چومتا ہے۔
بھٹو سے جو بھی ملا اس نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ وہ اپنے مجموعی انداز میں ایک مغربی اسٹائل کا انسان ہے مگر اس کی روح میں مشرق کی خوشبو موجود تھی۔اس کو بخوبی معلوم تھا کہ سیاست ٹھنڈے دماغ کا کھیل ہے مگر اس نے یہ کھیل بیحد جذباتیت کے ساتھ کھیلا۔اس نے سیاست سے جتنا چاہا؛ اس سے زیادہ حاصل کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اقتدار سے بہت لگاؤ تھا مگر اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے حصے میں عوام کی اس قدر محبت آئے گی۔عوامی محبت اکثر سیاستدانوں کے لیی ابھرتی ہے مگر وہ محبت کا جواب محبت سے نہیں دے پاتے۔ جب کہ بھٹو نے عوامی محبت کے احساس کو اپنے گلے لگایا اور اس طرح عوام اور اس کے درمیاں ایک رشتہ قائم ہوگیا۔
اقتدار انسان کو عزت دیتا ہے مگر بھٹو نے اس سے عوامی محبت حاصل کی۔وہ جب عوامی جلسوں سے مخاطب ہوتا تھا تو انہیں صرف جوشِ خطابت سے مسحور نہیں کرتا تھا۔ وہ ایک رو میں بہتا چلا جاتا تھا۔ اس نے یہ بات کہیں نہیں لکھی مگر اس نے جذباتیت میں اس بات کا بارہا اظہار کیا تھا کہ اس کو اس منتشر عوام سے ایک قوم بنانی ہے۔
بھٹو کی شہادت کے بعد ’’بھٹو ازم‘‘ کا کافی چرچہ رہا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے بھٹو کے ’’روٹی؛ کپڑا اور مکان‘‘ کو ہی بھٹوازم قرار دیا۔ حالانکہ اگر ’’بھٹو ازم‘‘ نامی کوئی نظریہ ہوسکتا ہے تو وہ ’’روٹی؛ کپڑا اور مکان‘‘ نہیں ہوسکتا۔ روٹی کپڑا اور مکان تو اس کا سیاسی منشور تھا۔اس میں عوام کے لیی اچھی کشش بھی ثابت ہوئی۔ مگر جس چیز کو نظریہ کہتے ہیں؛ وہ چیز کچھ خاص ہوتی ہے۔ جہاں تک منشور کا تعلق ہے تو منشور ایک مادی چیز ہوتا ہے۔ جب کہ نظریہ انسان کی روحانی اور جذباتی سرزمین پر بنیاد رکھتا ہے۔اگر بھٹو کے بکھرے ہوئے جذبات کو سمیٹا جائے تو اس سے ’’ایک قوم کی تشکیل‘‘ کا احساس ہی پھوٹتا ہے۔ اس کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ پاکستان ایک ملک تو ہے مگر پاکستانی ایک قوم نہیں۔ اس کا خواب تھا کہ پاکستانی قوم بنیں۔اور اسے اس بات کا احساس بھی ہوگیا تھا کہ اس میں پاکستانیوں کو قوم بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس لیی بھٹو اپنے اس عزم کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔
اور جیسا کہ قوم ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے اس لیی بھٹو عوام سے وہ تعلق قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگیا جو ایک فرد کا فیملی کے ساتھ ہوتا ہے۔ عوام توبھٹو کی فیملی نہ بن پائے کیوں کہ یہ بہت مشکل اور ایسی بات تھی جس میں وقت لگتا ہے۔ لیکن اپنے جذبے کی بنیاد پر بھٹو عوام کی فیملیز کا فرد بن گیا۔ ان فیملیز کا بھی جو اس سے اختلاف رکھتی تھیں۔ یہی سبب تھا کہ جب اسے سزائے موت دی گئی تو اس ملک کے اکثریت گھروں کے چولہے نہیں جلے۔
بھٹو ان رہنماؤں میں سے تھا جن کا تعلق عوام کے ساتھ بہت قریبی ہوتا ہے۔ اس لیی بھٹو کے بارے میں بہت ساری باتیں لوگوں کے علم میں ہیں۔ وہ ایک ایسا شخص نہیں تھا؛ جس کے بارے میں لوگوں کو معلومات کم ہو۔ مگر اتنی ساری باتوں کے باوجود اس شخص کی اصلیت کا پتہ لگانا بہت مشکل رہا ہے کہ وہ آخر کیا تھا؟
عجیب بات یہ ہے کہ شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا ہے؟ وہ جس کا اسٹائل ملنگوں اور مستوں جیسا تھا؛ اس کے لیی عوامی سیاست ایک ایسا راستہ تھا؛ جو اسے اپنی آگاہی دینے لگا تھا۔ سیاست اس کی طریقت تھی؛ وہ کسی حقیقت کا متلاشی تھا۔ وہ سیاسی صوفی تھا۔ اس نے عوامی عشق میں وحدت الوجود کی ایک ایسی جھلک دیکھی کہ جس پر وہ خود بھی فدا ہوگیا۔
جہاں تک اس کے حوالے سے کامیابی اور ناکامی کے سوالات کا تعلق ہے تو اس قسم کے لوگوں کے لیی اس قسم کی بحث نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔کیوں کہ کامیابی اور ناکامی مادی قدریں ہیں۔ جو انسان اپنی روح کو آزمائش میں ڈال دے وہ انسان پھر ناکامی اور کامیابی کے چکر سے آگے نکل جاتا ہے۔
بھٹو بنیادی طور پر ایک غمگین شخص تھا۔ ایک اداس رہنما۔اکیلا انسان۔ اس نے اپنے گرد ایک دنیا جمع کی۔ مگر اس کے باوجود وہ تنہا رہا۔وہ اپنے بچپن کے جھولے سے لیکر پھانسی کے پھندے میں جھولتے وقت تک اکیلا رہا۔
بھٹو جیسی ذات ؛ زندگی اور موت حاصل کرنے والے اشخاص پر شیکسپےئر جیسے ادیب بہترین ڈرامے لکھ سکتے ہیں۔اگر کازانت زاکس بھٹو کو جانتے تو اس پر ایک عالیشان ناول ضرور لکھتے۔ مگر اسے نہ جاننے کے باوجود انہوں نے اپنی زبردست کتاب ’’رپورٹ ٹو گریکو‘‘ میں جو الفاظ لکھے ہیں؛ وہ بہت مختصر سے الفاظ بھٹو کی ذات بیان کرنے کے لیی کافی ہیں۔
نکوس کازانت زاکس نے لکھا ہے کہ:
’’تین اقسام کی ارواح
تین اقسام کی دعائیں
1 ۔اے میرے مالک! میں تمہارے ہاتھوں میں ایک کمان کی طرح ہوں۔ مگر مجھے کھینچنا مت۔
2 ۔اے میرے مالک! میں تمہارے ہاتھوں میں ایک کمان کی طرح ہوں؛ مجھے بیشک کھینچو؛ مگر زور سے نہیں؛ کہیں میں ٹوٹ نہ جاؤں۔
3 ۔اے میرے مالک! میں تمہارے ہاتھوں میں ایک کمان ہوں۔ تمہارا جتنا دل چاہے ؛ مجھے کھینچو۔ اگر میں ٹوٹتا بھی ہوں تو پرواہ کس کو ہے!!؟
بھٹو تیسری قسم کی روح تھا۔