Bikhri Huyi Batein

بکھری ہوئی باتیں
اعجاز منگی


کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندیں کسی رومانوی مصور کی تصویر کے مانند رک رک کر رواں ہیں۔اور ٹیلیویزن پر اسد امانت علی خان کی دوسری برسی کی خبر نشر ہو رہی ہے۔
گذشتہ تین دنوں سے دارالحکومت کا دامن مسلسل بھیگ رہا ہے مگر مارگلا پہاڑیوں سے اٹھتے ہوئے بادلوں سے مخاطب ہوکر کوئی نہیں کہہ رہا کہ:
’’عمراں لنگھیاں پبھاں پار
ہن نہ وس وے کالیا!‘‘
وہ کالے بادل جو برسنے کے بعد سفید ہو جاتے ہیں اور سیاہی مائل سبز پہاڑوں پر ان آنچلوںکی طرح آہستہ سے ڈھلکتے رہتے ہیں؛ جن کے کونوں سے عہدِ وفا کی گانٹھ بندھی ہوتی ہے۔
وہ رات بہت یادگار تھی جب ہم پیر سہاوہ سے نیچے اتر رہے تھے اور بلکھاتے راستے کے ایک موڑ پر گاڑی روک کر وہ ستارے دیکھنے لگے جو شہرِ اقتدار کی روشنیوں پر مسکرا کر کہہ رہے تھے کہ’’دھرتی کے دامن میں دکھوں کے سوا اور ہے ہی کیا!؟‘‘
اس رات اگر ہم گھمبیر موڈ میں ہوتے تو قرت العین حیدر کے کرداروں کی طرح اس بحث میں چھڑ جاتے کہ ’’سکھ کیا ہے اور دکھ کیا ہے؟ گوتم بدھ نے کیا کہا ہے اور حقیقت کیا ہے!؟‘‘ مگر اس رات ہمارا ایسا کوئی موڈ نہیں تھا۔
عمران اپنی سی ڈیز میں وہ گیت تلاش کرتا رہا جس میں ’’ایبا‘‘ گروپ دل کی گہرائیوں سے گا کر بتاتا ہے کہ:
I have a dream[L: 44] a song to sing
To help me cope with anything
If you see the wonder of a fairy tale
You can take the future even if you fail
I believe in angels
Something good in everything I see
I believe in angels
When I know the time is right for me
Ill cross the stream – I have a dream

یعنی’’میرا ایک خواب ہے
اور میں ایک گیت گانا چاہتی ہوں
ایک ایسا خواب؛ ایک ایسا گیت
جو مجھے ہر مشکل سے نمٹنے میں مدد کرے گا
کاش تم اس حیرت کو دیکھ سکتے
جو پریوں کے کہانیوں میں ہوتی ہے۔
اگر تم ناکام بھی ہو جاؤ
پھر بھی مستقبل تمہاری مٹھی میں ہوگا!
میں فرشتوں پریقین رکھتی ہوں
اور ہر چیز میں اچھا پہلو دیکھتی ہوں
مجھے فرشتوں پر یقین ہے
اور جب میں نے دیکھا کہ یہ مناسب وقت ہے
تو میں اس ندی کو پار کر لوںگی‘‘
لیکن ایک دوست مسلسل اصرار کیی جا رہا تھا کہ ’’اپنی انگریزی میوزک کو چھوڑو اور وہ گانہ لگاؤ :
’’تو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے؛ حسیں ہے‘‘
اس دوست کے اصرار کی وجہہ سے مجھے اس گیت سے کچھ ملتا جلتا گیت یاد آنے لگا؛ جس کے بول شاید یہی تھے کہ:
’’ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں‘‘
واقعی ان تاروں بھری راتوں میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟ اور وہ بھی اس اسلام آباد نامی شہر میں جو دن کو واعدے کرتا ہے اور رات کو بھول جاتا ہے۔
اور اس ملک کے عوام انتظار کرتے ہیں۔وہ انتظار جو ظلم کی سب سے مشکل قسم ہے۔
اس شہر میں حکمرانی کرنے والے ایک لیجینڈ لیڈر نے عوام سے ایک معمولی سا وعدہ کیا تھا۔ تین الفاظ پر محیط ایک مختصر سا وعدہ’’روٹی؛ کپڑا اور مکان‘‘ کا وعدہ!
اس واعدے کا کیا ہوا؟
اسلام آباد کی بھیگی ہوئی ہوا آج بھی پوچھ رہی ہے۔ مگر ایف ایم گیتوں کے شور میں لوگ دھلے ہوئے درختوں اور نکھرے ہوئے پھولوں کو دیکھ رہے ہیں!
اچھا لگتا ہے یہ سب کچھ! ہلکی پھلکی بوندا باندی میں تھوڑی سی گاڑیاں اور چھتری اٹھا کر چلنے والے چند لوگ۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ دنیا کی ابھی ابھی شروعات ہوئی ہے۔
بارش بہت کچھ دھو دیتی ہے۔ جس طرح انسان کے آنکھوں کے آنسؤ اس کے دل کے داغ دھو دیتے ہیں؛ کچھ ویسے ہی بارش میں دنیا کے دکھ دھل جاتے ہیں۔
نہ معلوم کازانت زاکس نے کیا سوچ کر لکھا تھا کہ’’رؤ انسان ذات! رونے میں نجات ہے‘‘ کیا یہ الفاظ لکھتے وقت اس کی کیفیت بھی کچھ ایسی تھی؛ جو بارش میں محبت بھرے دل کی ہوتی ہے؟
لیکن یہ بکھرا بکھرا سا کالم میں کیوں لکھ رہا ہوں؟ ایسے کالم نہیں لکھے جاتے۔ ایسے کالم صرف سوچے جاتے ہیں۔ لیکن میں ایک بکھری سوچ کو الفاظ کی صورت دے چکا ہوں۔ اب مجھے اسے ضایع نہیں کرنا۔ زیان کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا۔ اس لیی میں اس کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اس لیی مجھے اسد امانت علی خان کے اس گیت کی طرف لوٹ آنا چاہئیی جہاں سے میں نے ابتدا کی تھی۔
’’عمراں لنگھیاں پبھاں پار
ہن نہ وس وے کالیا‘‘
اور میں سوچ رہا ہوں کہ لوگ موسیقی کیوں سنتے ہیں؟ شاید اس لیی کہ موسیقی نہ صرف انسان کے دل کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے؛ بلکہ اسے اپنے سروں کے ذریعے حوصلہ بھی دیتی ہے۔مگر افسوس کہ ہماری سیاست میں کچھ نہیں۔
آج ہی کی بات کے کہ اپنے نام سے ’’کشمیری‘‘ کاٹنے والے ایک دوست نے میری بھول پر کہا کہ ’’ایک پروفیسر نہا رہا تھا کہ اسے کوئی مشکل سوال سمجھ میں آگیا اور وہ اسی حالت میں باہر نکل آیا۔اس پر کسی نے اپنے خوبصورت تبصرے کی قبا ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر اسے نہیں تو اس کے خیال کو تو لباس مل گیا‘‘
اور اس وقت میں سوچنے لگا کہ ہمارے خوابوں کو تعبیروں کو لباس کب ملے گا؟ وہ خواب جو طویل انتظار کے باعث بھوکے ہیں؛ ان کے پیٹ میں تعبیر کی روٹی کب جائے گی؟ وہ خواب جو بارش اور دھوپ میں پانی اور پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں؛ انہیں تعبیر کا مکان کب ملے گا؟
پھر اندر سے آواز آئی کہ کیا آپ اب تک سمجھتے ہیں کہ آپ کے خواب زندہ ہیں؟ آپ کے سب سے بڑے خواب کا نام کشمیر تھا۔ کیا کشمیر نامی خواب زندہ ہے؟
ضد کی تو بات اور ہوتی ہے مگر یہ خو اچھی تو نہیں!
اس لیی ان حساس سوالات کو چھوڑتے ہیں۔ اور بات کرتے ہیں اس موسیقی کی؛ جو اب تک اپنے سروں سے خوابوں کے بچے پیدا کرنے کی قوت رکھتی ہے۔جب انسان کی روح انتظار کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتی؛ تب اس کے سر اپنا کندھا دیتے ہیں اور انسان کو کچھ آرام میسر آجاتا ہے۔ کیا آپ کو یہ گیت سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ابتدا میں ’’ایبا‘‘ گروپ کے گیت کا اسپرٹ اس میں بھی موجود ہے۔
’’کبھی کبھی آدتی زندگی میں یوں ہی کوئی اپنا لگتا ہے
کبھی کبھی آدتی وہ بچھڑ جائے تو اک سپنا لگتا ہے
ایسے میں کوئی کیسے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکے
اور کیسے کوئی سوچ دے
Every things gonna be ok
یعنی’’سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘‘
ہاں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا!
کاش! ہماری سیاست ہمیں اور کچھ نہ دے پاتی لیکن یہ حوصلہ دیتی کہ:
’’رات کے بعد ہی سویرا ہوتا ہے‘‘
رات کتنی تاریک ہے۔ اور آسمان ستاروں والے چمکتے ہوئے دانت نکال کر ہم پر ہنس رہا ہے۔
اور ہم کس کی تقریر اور کس کی پریس کانفرنس کے آغوش میں پناہ لیں۔
فیض نے کہا تھا کہ:
’’باوفا تو بہت ہیں کوئی حسیں بھی تو ہو
چلو پھر اسی بے وفا کی بات کرتے ہیں‘‘
آئیں ایک بار پھر ’’روٹی؛ کپڑے اور مکان‘‘ کے واعدے پر مسکرائیں!
اور دل سے کہیں کہ بچوں کی طرح سوجائے پریوں کی وہ کہانیاں سن کر جن میں بہت سارے معجزے ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے صحافیوں کو عراق کے منتظر زیدی اور بھارت کے جرنیل سنگھ کی پیروی کبھی نہیں کرنی چاہئیی۔ مگر کبھی کوئی کسی لیڈر سے یہ تو کہے کہ ’’اگر آپ برا نہ مانے تو آپ سے یہ کہیں کہ اپنی پریس کانفرنس چھوڑ کر قوم کو کہانی سنائیں۔ پریوں والی کہانی۔ ایسی کہانی جس میں ناممکن چیزیں ممکن بن جاتی ہیں۔ اور جس کو سنتے سنتے نیند آ جاتی ہے‘‘