Sab Maya Hai

سب مایا ہے!
اعجاز منگی


کیابڑھتی ہوئی بد امنی اور طویل ہوتی ہوئی لوڈشیڈنگ کو عدلیہ کی آزادی سے جوڑ کر میاں نواز شریف موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کے لیی تیار ہیں؟
کیا مسلم لیگ کے سارے گروپس اب حالات اورعوامی حافظے کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے یکجا ہو جائیں گے؟
کیا ملک ایک اور انتخابات کا بوجھ اٹھانے کے لائق سمجھا گیا ہے؟ یا بیرونی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے؛ ان ہاؤس چینج کے فارمولے پر اتفاق کیا گیا ہے اور ملک کو ایک’’قومی حکومت‘‘ کا تحفہ دیا جائے گا؟
عوامی ذہنوں میں عمران خان کے حمایت کی سلگتی ہوئی سوچ بھڑک کر آگ بن سکتی ہے؟
اقتداری ایوانوں میں اختلافات کی افواہیںاور مارچ کے مہینے کی ڈیڈلائن کا بڑہتا ہوا تذکرہ اور بہت سارے امکانات۔۔۔۔۔۔!
سارا دن سیاسی باتیں سننے اور سیاستدانوں کے دماغوں کی طرح سوچ کر اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے انسان کا ذہن کس قدر تھک جاتا ہے۔اس کیفیت میں ذہن کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیی انسان دارالحکومت کے ان مقامات کا رخ کس طرح کر سکتا ہے؛ جہاں درجہ حرارت بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔
اور آب پارہ کے سامنے ’’چنبیلی باغ‘‘ کے بنچ پر بیٹھے ہوئے اس جوڑے کو دیکھنے کا کیا لطف؟جو دور سے آنے والے ہر شخص کو لڑکی کا رشتہ دار سمجھ کر ذرا خبردار اور ذرا گھبرا جاتا ہے۔
اگر موسمِ گرما ہوتا تو جنگل کی طرف جانے والی سڑک تھکاوٹ مٹانے کے حوالے سے سب سے اچھی ہوتی۔ مگر اس موسم ادھر کا رخ تو وہ دیوانے بھی نہیں کرتے؛ جن کے بغیر ویرانے بہت اکیلاپن محسوس کرتے ہے۔ اس لیی شہر کے لوگ بھلے رستہ نہ دیں؛ پھر بھی بن میں وسرام کرنے کو کسی کا دل نہیں کرتا اور انسان انسانوں کے جنگل کا سیر کرنے کی غرض سے وہاں نکل جاتا ہے؛ جہاں بھیڑ زیادہ ہوتی ہے۔
اسلام آباد کے جناح سپر کی سرد شام میں گرم جلوؤںکے درمیاں گذرتے ہوئے بہت ساری غیرسیاسی باتیں کانوں میں مدھومکھیوں کی مانند بھن بھنا رہی ہیں۔
کسی نے کہا تھا کہ’’اگر دیکھنا ہو تو بچوں کو کھلونوں کی دوکانوں میں؛ خواتین کو شاپنگ مال میں اور مردوں کو مخلوط محافل میں دیکھو‘‘
مگر کسی نے کیوں نہیں کہاکہ دیکھنے کی چیزیں صرف وہ تو نہیں ہوتیں جنہیں پایا جا سکتا ہے۔ ان چیزوں کو بھی دیکھا جانا چاہئیی جو پانے اور نہ پانے سے ماورا ہوتی ہیں۔ہم صرف ان فیشن ایبل عورتوں کو کیوں دیکھیں جن کی اسٹریچنگ جینز اور لیدھر جیکیٹس ان کی عریانی چھپانے معذور ہوتی ہیں۔ شاپنگ سینٹر کی سڑک سے آسمان پر نظر آنے والا وہ زہرہ جو ململ کا سفید لباس پہن کر نمودار ہوا ہے؛ اسے کوئی کیوں نہیں دیکھتا؟
چڑھتی ہوئی جوانی جیسا چاند؛دھند کی شال پہن کرشہرِ اقتدار کو اداس آنکھوں سے دیکھنے والی مارگلہ پہاڑیوںکے شانے پر سر رکھ کر اسے جیسے تسلی دے رہا ہو کہ’’یہ وقت بھی گذر جائے گا‘‘
موسمِ سرما میں سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی دھرتی کو ڈھانپنے کے لیی اپنے سارے پتے نچھاور کرنے والے درخت کی شاخ پر ایک ننھا منا سا پرندہ اپنی میٹھی آواز میں نہ معلوم کس سے پوچھ رہا ہے کہ’’انسان کب ہوش میں آئے گا؟‘‘
مگر انسان مصروف ہے۔ اونچا مقام حاصل کرنے میں۔ بڑا مکان بنانے میں۔بچوں کو کمائی کی مشین بنانے میں اوراس کے حرص کی کوئی حد نہیں؛ ان حاصلات کو اپنانے کے جنون میں جو بہت کچھ پانے کے باوجود انسان کی جھولی خالی محسوس کراتا ہے۔پھر کس لیی یہ بے چینی اور یہ اضطراب!
جب کہ وہ جانتا ہے کہ اس کی ضرورت دو نان؛قہوے کی دو پیالیاں؛ ایک گرم شال اور وہ دو جوتے ہیں جو انہیں بہت دور لے جانے کے لیی تیار رہتے ہیں۔لیکن انسان کی جیبیں بھر جاتی ہیں مگر دل نہیں بھرتا۔ پیٹ کا بھرنا مشکل نہیں؛ بھوک کا مٹنا ناممکن ہے۔
چھوٹے دیہات میں یہ باتیں عام انسانوں کو بھی سمجھ میں آجاتی ہیں مگر بڑے شہروں میں ایسی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ صرف شہروں کی سڑکوں پرہی نہیں زندگی کی شاہراہوں پر بھی سب کو سب سے آگے نکلنے کی جلدی لگی رہتی ہے۔
ہم آزادی کے لیی آواز اٹھاتے ہیں لیکن یہ کیوں نہیں جانتے کہ ہم سب قیدی ہیںاس کلچر کے جو ہم نے نہیں بنایا بلکہ ہم پر مسلط ہوا ہے اور ان امپورٹڈ ویلیوز کو ہم اہمیت دیتے ہیں؛ ان زیورات کی طرح جو زنجیروں کی ایک مہنگی قسم کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔اس قید سے ہم کو قربت ہوگئی ہے؛ جو مہنگے ماحول کی مانند ہے۔شاید اصل بات آزادی نہیں بلکہ اجورہ ہے۔
’’آزادی‘‘ جس کے بارے میں کازانت زاکس نے لکھا تھا کہ میں اس خطرناک لفظ کو کاماز میں اس طرح بند کرتا ہوں جس طرح ایک بپھرے بیل کو سینگوں سے پکڑ کر قابو کیا جاتا ہے۔
اور ان مہنگے شاپنگ سیٹرس پر بڑی گاڑیوں میں بیٹھی ہوئیں پتلی لڑکیوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے اس ترک شاعر کا جس نے لکھا تھا کہ:
’’یہ مرد
جو تمہیںبے پردہ محفلوں میں لے جاتے ہیں
اور تمہیں مہنگی چیزوں کی شاپنگ کراتے ہیں
اور ہوٹلوں میں تمہارے لیی کرسی کھینچ کر
تمہیں عزت دیتے ہیں
اور تمہاری آزادی کے حوالے سے
لمبی تقریریں کرتے ہیں
کیا یہ تمہیں آزادی دے پائیں گے؟
یہ غلام؛ ابنِ غلام؛ ابنِ غلام۔۔۔!‘‘
غلاموں اور ابنِ غلاموں کو ایک دوسرے کو محبت سے دیکھنے کا منظر اچھا ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب باتوں کی بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی سوپ کے پیالے میں چمچ ہلاتے ہوئے سوچتی رہتی ہے؛ تو موضوع کا اس نکتہ پر آنا بہت فطری بن جاتا ہے ؛ جس سے سوال اٹھتا ہے کہ’’کیا سنہری بالوں والی یہ لڑکی خوبصورت ہے؟‘‘
اور کوئی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہتا ہے ’’شاید۔ مگر جب سے میں ایک لڑکی سے محبت کر رہا ہوں؛ تب سے مجھے کوئی بھی لڑکی خوبصورت نہیں لگتی۔‘‘
کیا حسن سے محبت فطری نہیں؟
نہیں۔ حسن کشش تو رکھتا ہے اور انسان کی آنکھیں اس جانب کھنچ تو جاتی ہیں؛ مگر اس تعلق کو کوئی دوام ہے ؛ نہ اس کی کوئی اہمیت! کیوں کہ انسان کو صرف اس انسان سے محبت نہیں ہوتی؛ جو سب سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ انسان کو وہ انسان خوبصورت لگنے لگتا ہے؛ جو اس سے محبت کرتا ہے۔
تو کیامعروف انگریز شاعر شیلے کی وہ بات صحیح نہیں جس میں اس نے کہا تھا کہ:
[L: 60]Thing of beauty is joy for ever[L: 62]
یعنی حسن دائمی مسرت کا سرچشمہ ہے۔
وہ بات صحیح ہے کہ حسن مسرت بخشتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ حسن کیا ہے؟کیا حسن ان نیلی آنکھوں میں ہے؛ جنہیں دیکھ کر گہری جھیلیں یاد آ جاتی ہیں!؟ کیا حسن جوان جسم کے پنجرے میں پر پھڑپھڑاتا پرندہ ہے؟ کیا حسن نقوش کی مخصوص جیومینٹری اور ٹرگنامینٹری سے پیدا ہوتا ہے؟ یا حسن رنگ میں نہیں بلکہ اس ڈھنگ میں ہے؛ جس کو انگریزی میں اسٹائل کہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی زندگی کے بیتے ہوئے لمحوں کا البم کھول کر دیکھیں تو ہمیں حسین چہرے وہ نظر آئیں گے دنیا کی نظر میں اتنے خوبصورت بھلے نہ ہوں مگر صرف محبت کی وجہہ سے وہ ہمیں حسین نظر آئے۔
حسن کی حقیقت محبت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔وہی آنکھیں خوبصورت ہوتی ہیں؛ جو ہمیں محبت سے دیکھتی ہیں۔ وہ ہاتھ حسین ہوتے ہیں جو ہمیں محبت سے پکڑ کر ہمیشہ کے لیی جکڑ دیتے ہیں۔ اور جب انسان کو محبت مل جاتی ہے؛ تب یہ مال و دولتِ دنیا اور یہ عہدے بے معنی بن جاتے ہیں۔ تب نازک؛ قیمتی اورامپورٹڈ اشیاء سے بھرے ہوئے مارکٹ ہمیں اس خیال کا عکس محسوس ہوتے ہیں؛ جس کو خوبصورت انداز سے بیان کرتے ہوئے ابنِ انشا نے کہا تھا کہ:
’’سب مایا ہے‘‘۔
واقعی سب مایا ہے۔ سب آنکھوں کا دھوکہ ہے۔کسی چیز کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ڈانس کلبس میں جلتی بجھتی روشنیاں ؛ دولت کی چمک سے پیدا ہونے والے جلترنگ اور کاسمیٹکس انڈسٹریز کی ساری دلآویز رنگینیاں۔۔۔۔۔سب مایا ہے۔
کیا محبت اس مایا جال سے آزاد ہے؟
یا وہ مایا کا سب سے خطرناک روپ ہے۔
صرف کاجل سے بھری ہوئی آنکھیں ہی مایا نہیں بلکہ ان کا محبت بھری نظر سے دیکھنا بھے مایا ہے۔
ہم بھی مایا ہیں۔تو بھی مایا ہے۔ اور مایا کے تصور سے ناآشنا وہ حسن سادہ اور پیکرِ محبت بھی مایا ہے۔
انسان مایا ہے۔ اس کا ہر رشتہ مایا ہے۔ اس کی نفرت مایا ہے۔ اس کی محبت مایا ہے۔
جو چیز مرسکتی ہے ؛ وہ مایا ہے۔
ہر وہ چیز جس کا خاتمہ طعہ ہے؛ وہ مایا ہے۔
تو کیا یہ کائنات بھی مایا ہے!!!