Aakhir Shab Ke Hamsafar

آخرِ شب کے ہمسفر!
اعجاز منگی

شبِ عاشور اس دعا کے ساتھ رخصت ہو رہی تھی کہ’’خدا تم سب کو غمِ حسین کے سوا کوئی غم نہ دے‘‘
مگر نارتھ کراچی کے خاک نشین اس دعا کی قبولیت سے محروم رہے۔ وہ لوگ جو ’’شامِ غریباں‘‘ سننے کے بعد دل میں دردِ حسین لیکر اپنی جھونپڑیوں میں واپس آئے؛ انہیں معلوم نہ تھا کہ تنکوں سے بنے ہوئے ان کے خیمے بھی اپنے معصوم مکینوں کے ساتھ خاک ہو جائیں گے۔
اٹھارہ بچوں سمیت چالیس افراد اس آگ کے شعلوں میں جل گئے؛ جس آگ کی تحقیقات کے لیی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
وہ کمیٹی کس بات کی تحقیق کرے گی؟ اس بات کی کہ آگ کس طرح لگتی ہے؟ یا اس بات کی کہ آگ انسانی جسم کو کس طرح جلاتی ہے؟یا اس بات کی کہ سرد رات میں آگ کی تپش کے لیی ترستے ہوئے انسان آگ سے کس طرح بھاگتے ہیں اور جب انہیں راہ فرار نہیں ملتی تو ان شعلوں کے درمیاں ان کیا سفرِ حیات کس طرح رک جاتا ہے؟
یہ سارے سوالات کس قدر بے معنی ہیں۔بنیادی سوال تو وہی ہے کہ اس ملک کے خاکنشینوں کو اگر سردیوں میں آگ مل بھی جاتی ہے تو انہیں ٹھٹھر کر مرنے سے بچانے کے لیی نہیں بلکہ انہیں تڑپا کر جلانے کے لیی!
کوئی اتفاقات کا دلدادہ کہ سکتا ہے کہ آگ تو کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ پنڈی کے مہنگے گکھڑ پلازہ میں یا نارتھ کراچی کی جھونپڑیوں میں! یعنی انسان تو کہیں بھی مرسکتا ہے۔ ایک مہنگے اور جدید اسپتال کے بیڈ پر یا سڑک کے کنارے!!
وہ لوگ اگر کشادہ فلیٹوں کے مالکان ہوتے اور انہیں کسی افسوسناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تب بھی دکھ ہوتا مگر اس دکھ میں اتفاق کا پہلو نمایاں رہتا لیکن نارتھ کراچی کے غریبوں سے پیش آئی ہوئی قیامت صغری پر اتفاق کی چادر نہ ڈالی جائے تو اچھا ہے۔ کیوں کہ جن حالات میں وہ رہ رہے تھے؛ ان کا منطقی نتیجہ اس قسم کا ہی ہوتا ہے۔ اور کراچی میںجھونپڑیوں کی یہ ایک بستی نہیں۔ ایسی بیشمار بستیاں ہیں۔ جو ابھی تک ’’اتفاق‘‘ سے بچی ہوئی ہیں۔ ان جھونپڑیوں کے مکین تو کسی طرح پرانے کپڑوں سے اپنا تن ڈھانک لیتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح محنت مذدوری کرکے یا بھیک مانگ کر اپنا پیٹ بھی بھر لیتے ہیں؛ لیکن آسمان سے باتیں کرنے والے رےئل اسٹیٹ کے اس دور میں وہ اپنے مکان کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔کیا حکومت سے ایک عدد مکان لینے کے لیی انہیں آگ کے اس دریاء سے گذرنا ہوگا؛ جس میں ان کے بہت سے پیارے ڈوب جائیں !!؟
حکومت نے سانحہ نارتھ کراچی کے متاثرین کے لیی ایک لاکھ کی رقم اور سرکاری خرچ سے بننے والے مکانات کا اعلان کیا ہے۔ وہ ایک لاکھ جو انہیں ذلتوں کی گلیوں میں بہت سے دھکے کھانے کے بعد ملے گا؛ اس رقم سے وہ اس وقت اپنے ان زخموں کا علاج کروانے کی کوشش کریں گے؛ جو مناسب طبی امداد نہ ملنے کے باعث تب تک ناسور بن جائیں گے۔ اگر ان ناسوروں سے انہیں نجات مل بھی گئی؛ تب بھی کیا ان کے دل کے وہ زخم کبھی بھی بھر پائیں گے؛ جو اپنے بچوں کو آگ میں چیختے دیکھ کر ان کے دل میں لگے۔ وہ زخم دنیا کی کوئی بھی مرہم نہیں مٹا سکتی۔
اور ان افراد کو اگر کسی معجزاتی دور میں’’اعلانیہ گھر ‘‘ مل بھی جائیں؛ تب بھی ان کے پیاروں کے فرقت کے صدمے کم نہ ہو پائیں گے۔ان کے وہ پیارے جو آگ کے شعلوں میں جلتے اور اپنوں کو مدد کے لیی پکارتے رہے۔
وہ خاک نشین جو اس امیر شہر میں اس امید کے ساتھ ڈیرے ڈال کر بس رہے تھے کہ کبھی ان کو بھی ایک سکھی زندگی کا حق حاصل ہوگا۔
وہ بستی جو اب خاک ہوچکی ہے۔ اس بستی میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ ان کے وہ معصوم خواب بھی جل چکے ہیں؛ جو خواب وہ اس شہر کے خوشحال لوگوں کو دیکھ کر کھلی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ وپہ سوچتے تھے کہ سب قسمت کے ہاتھ میں ہے۔ جب قسمت ان کا ساتھ دے گی تو ان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ مگر کیا ہوا؟ اس راکھ کے ڈھیر پر ایک نظر ڈال کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کو اس شہر میں کرنے کے لیی بہت کام ہیں۔ حکومت ان کا قیمتی ٹائم کیوں برباد کر رہی ہے؟ اس منظر کو تو اسیمبلیوں کے ممبران کو دیکھنا چاہئیی۔وہ دیکھیں کہ اس ملک کے غریب افراد جن حالات میں رہتے ہیں؛ ان کا منطقی انجام یہی ہوتا ہے۔
اسلام آباد سے اسپیشل فلائٹس کا بندوبست ہونا چاہئیی؛ جن میں قومی اسیمبلی اور سینیٹ کے ممبران کو مشاہدے کے لیی اس بستی کا منظر دیکھنا چاہئیی۔ اس ’’فرمائش‘‘ پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس خرچے سے تو کچھ مکانات تعمیر ہو سکتے ہیں؛ مگر ہم بے کار غیر ملکی دوروں پر بھی تو قومی دولت لٹاتے ہیں۔ وہ غیر ملکی دورے جن سے مزید مایوسی اور رسوائی کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس دورے سے تو کچھ حاصل ہونے کی امید وابستہ کی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس بستی کی راکھ میں کوئی چھپی ہوئی چنگاری ان کے دل میں غریب عوام سے محبت کی آگ بھڑکادے!!!
ہمیں اس بات کو سمجھ لینا چاہئیی کہ غریبوں کی بستیوں میں آگ اس لیی لگتی ہے؛ کیوں کہ حکومتوں کے دلوں میں ان کے لیی محبت کی آگ نہیں جلتی۔ اگر حکومتوں کے دلوں میں وہ آگ جل اٹھے؛ تو شاید کسی غریب کی جھونپڑی اس کی اور اس کے اہلِ خانہ کی چتا نہ پائے۔
وہ آگ جو دس محرم کی رات کو اس بستی کو نگل گئی؛ اس آگ کو تو فائر برگیڈ کی گاڑیاں کب کا بجھا بھی چکیں؛ مگر اس سانحہ سے گذرنے والے افراد کے دل میں آنسؤں سے بھڑک اٹھنے والی آگ بجھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔وہ آگ کس طرح لگی؟ اس سوال پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے بجائے؛ حکومت کو ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل کرنی چاہئے جو اس بات پر غوروفکر کرے کہ زندہ بچ جانے والے افراد کے دلوں میں غم کی آگ کس طرح بجھائی جائے؟ شاید اس تحقیق کے ذریعے ہم اس ملک کے ان غریبوں کو نظرِ آتش ہونے سے بچا پائیں گے؛ جو اس واقعہ کے بعد بھی گھاس پھونس سے بنی ہوئی جھونپڑیوں میں رہیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اس دنیا میں جانے کے لیی آتا ہے۔ موت حقیقت ہے۔ مگر اس وقت وہ حقیقت بہت تلخ ہوجاتی ہے؛ جب انتظامیہ کے ناقص انتظامات کے باعث لوگ لقمہ آگ بن جائیں۔ ایسے سانحات سے گذرنے والے افراد صرف جسمانی امراض کا نشانہ نہیں بنتے؛ وہ نفسیاتی مریض بھی بن جاتے ہیں؛ مگر انہیں کسی ماہرِ نفسیات کی کاؤنسلنگ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ان کے لیی ایک لاکھ رپیوں اور ایک عدد مکان کا اعلان کرکے اپنا فرض پورا کر چکی تو یہ ایک اور زیادتی ہوگی؛ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے پیاروں کو یاد کرکے ساری زندگی اس ہندی دوہے کی طرح دکھتے ہوئے بتائیں گے کہ:
’’لکڑی جلی؛ کوئلہ بھیو؛ کوئلہ بھیو راکھ
میں برہن ایسی جلی نہ کوئلہ بھیو نہ راکھ‘‘