Paharon ke paar

HTML clipboard

پہاڑوں کے پار
اعجاز منگی

شیر مر گیا۔ مگر ہر پہاڑ کا پتھر اب بھی اس کی دھاڑ سے گونج رہا ہے۔اور نکاراگؤا کا ایک شاعر لکھ رہا ہے کہ :
’’شیر تب تک نہیں مرسکتا
جب تک گھنے جنگل کے
وہ پراسرار گوشے موجود ہیں
جن میں اس کی آواز گونجتی رہتی ہے‘‘
ایسی ہی آواز بلوچستان کے ان پہاڑوں سے آ رہی ہے؛ جہاں اس نے آخری گولی چلائی تھی۔مگراس گولی کی زبان ’’بلوچی‘‘ نہیں تھی۔ کیوں کہ ہتھیاروں کی اپنی زبانیں ہوتی ہیں۔جن کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں؛ جو ہر خوبصورت ہتھیار کے لیی اپنے ہاتھوں میں دستِ زلیخا جیسی بے چین عاشقی کو بہتا ہوا دیکھتے ہیں۔
حیرت ہے کہ ایران کی خمار آلود تاریخ میں کسی رند کے ہونٹوں سے یہ الفاظ کیوں ادا نہیں ہو سکے کہ:
’’افسوس ! اس خیام پر جس نے اپنا وقت شاعری میں گنوایا؛
مانا کہ اس کی رباعی پوری ہوگئی؛ مگر جام تو آدھا رہ گیا!!‘‘
تو ہم شاید ہتھیاروں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔اور ان لوگوں کے بارے میں جو ہر نئے ہتھیار کو ایک ایسے جذبے کے ساتھ اٹھاتے ہیں جیسے جذبہ انتقام کی آگ میں جلنے والی ایک باغیرت بیوہ اپنے شوہر کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بیٹے کو اٹھاتی ہے۔
وہ لوگ غیر معمولی ہوتے ہیں؛ جو یہ کہتے ہیں کہ ’’ہتھیار کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ اسے جرم میں استعمال کیا جائے‘‘
مگر ان باتوں کو سمجھنے والے لوگ کتنے ہیں؟اس لیی میںیہ کالم اس دوست کی فرمائش پر لکھ رہا ہوں جو اس قبیلے کا فرد ہے جس کے لیی وقت وہ دریا نما دیوتا ہے؛ جو زمینوں کو سیراب کرنے کے بجائے؛ تہذیبوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
وہ ایک الگ تہذیب تھی۔ جو الیگزینڈر سے لیکر اکبر بگٹی تک چلی۔ اوررک گئی؛ ان سانسوں کے ساتھ جو نتھنوں کی سرنگ میں گھسٹ رہے تھے اس غصہ کے ساتھ کہ اس کی میگزین میں کچھ گولیاں اب بھی باقی ہیں۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ کازانت زاکس نے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ ’’میرے دادا کیا کرتے تھے؟‘‘
ماں نے جواب دیا کہ ’’وہ جنگ کرتے تھے‘‘
’’اور زمانہ امن میں؟‘‘
اس کی ماں نے کہا’’زمانہ امن میں؛ وہ گھر کے آنگن میں خاموش بیٹھے پائپ پیتے اور دورپہاڑوں کو دیکھتے رہتے تھے‘‘
شاہ لطیف نے بھی لکھا تھا کہ:
’’کیا ہے تجھے کام؛ اس سونے سنگ لاخ میں
دیکھ کہ اس پہاڑ کو؛ مجھے آئے نہ آرام!!‘‘
اس بے آرامی؛ اس بے چینی؛نے بسیرا کیا تھا اس بوڑھے بگٹی کی رگوں میں؛ جس نے اپنے نوجوان گارڈ سے کہا کہ ’’مجھے سہارا دو؛ میرے بچے! اور مجھے پہاڑ کے اس پنگھٹ پر پہنچاؤ جہاں میں اپنی زندگی کی وہ چنری اپنے خون سے دھو سکوں؛ جو بہت داغدار ہے۔‘‘
جی ہاں! ہم اس بگٹی کی بات نہیں کر رہے؛ جو ایک ظالم سردار تھا۔ جو بگٹی قبیلے کے ڈھائی لاکھ افراد کی زخمی زندگیوں پر اپنے کردار کی مرہم رکھنے کے بجائے انہیں اپنے مفادات کے لیی استعمال کیا کرتا تھا۔جس کا سیاسی کردار یہ تھا کہ اس نے ’’نیپ‘‘ سے اختلافات رکھنے کے بعد زیڈ اے بھٹو کو ’’لنڈن پلان‘‘ کے بارے میں بتایا تھا۔اور عطاء اﷲ مینگل کی حکومت ختم کراکے خود غوث بخش بزنجو کی کرسی پر گورنر بن کر بیٹھ گیا۔
ہم اس بگٹی کے بارے میں بھی بات نہیں کر رہے؛ جو گورنرشپ سے استعفاء دینے کے بعد اپنے صوبے میں جاری آپریشن کی مخالفت کرنے کے بجائے جنرل رحیم الدین خان کی حکومت میں اس طرح خاموش رہا؛ جیسے اس کا اپنی دھرتی اوراس کے دکھوں سے دور کا رشتہ بھی نہ ہو۔
ہمارا موضوع وہ بگٹی بالکل نہیں ہے جو اپنی سیاسی ہابرنیشن سے باہر نکل کر بلوچستان کی اتحادی حکومت کا چیف منسٹر بنا اور وفاق سے اختلافات کی بناء پر مستعفی ہوگیا اور جب صدر غلام اسحاق خان کے حکم پر گورنر محمد موسی خان نے بلوچستان کی اسمبلی تحلیل کردی تو میڈیا نے اسے احتجاجی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے اس انداز سے دکھایا کہ اس کے سفید بالوں کی ایک لمبی لٹ اس کی پیشانی پر لٹک رہی تھی۔
ہم اس بگٹی کی بات نہیں کر رہے جس نے جمہوری وطن پارٹی بنائی اور اکثریت سے کامیاب ہو کر پاکستان کے صدر بننے کی تمنا کی۔اور پھر فاروق لغاری کی حمایت میں صدارتی امیدواری سے ہاتھ ہٹا لیا۔
ہم اس بگٹی کے حوالے سے سوچ بھی نہیں رہے جو اپنے باڈی گارڈوں کو پندرہ سو ماہوار تنخواہ دیا کرتا تھا۔ اور اس پر سوچتا نہ تھا کہ اتنے پیسوں سے ایک شخص اپنا گھر کس طرح چلا سکتا ہے؟ اس کی آمدنی گیس کے وہ زخائر تھے؛ جن سے وہ ماہوار بھاری بھتہ لیا کرتا تھا اور اس نے جعلی ناموں کے ساتھ اپنے قبیلے کے بہت سارے لوگوں کو گیس کمپنی میں ملازم رکھوایا تھا اور ان کی تنخواہیں اس کے اکاؤنٹ میں جاتی تھیں۔
ہم اس بگٹی کی حمایت کس طرح کرسکتے ہیں جو بہت ظالم سردار تھا اور جو کسی کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیی انگاروں پر چلاتا تھا؛ تب وہ بھول جاتا تھا کہ اس کی ابتدائی تعلیم علامہ آئی آئی قاضی جیسے صوفی دانشور نے کی ہے اور وہ آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہے۔
مگر اس بگٹی کی بات کر رہیں ہیں جسے آخری دور میں وہ کہانیاں یاد آیا کرتی تھیں؛ جو حیدرآباد کی مہکتی ہواؤں میں اسے انگریزی میں ’’نیم ٹری‘‘ نظم لکھنے والی جرمن خاتون ایلسا قاضی سنایا کرتی تھیں۔پھر نہ معلوم اکبر بگٹی نیم کا ایسا درخت بنتا گیا جس میں ٹھنڈا سایہ نہیں صرف کڑواہٹ ہی کڑواہٹ بھر گئی۔
ہم اس اکبر بگٹی کی بات کر رہیں ہیں جو آخر میں خود کے بھی خلاف ہوگیا۔بندوق کو اپنی واکنگ اسٹک بنا کر پہاڑی مورچوں کی طرف نکل جانے والے اکبر بگٹی کے بارے میں ہم نہیں بتا سکتے کہ اس نے آخری گولی کس پر چلائی؟ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ بغاوت کی ابتدا میں اس نے پہلی گولی اس چالباز بگٹی پر چلائی جس کی انگلی پکڑ کر وہ بچہ بہت بگڑ گیا؛ جس نے قومی ہیرو بننے کے لیی جنم لیا تھا۔
پھر مغربی میڈیا میں شایع ہونے والی وہ اسٹوری پڑھ کر اس کو بہت خوشی ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ’’ایک بوڑھا باغی کس طرح ستاروں سے بھری ہوئی راتوں میں اپنے پوتے کے ساتھ پہاڑی مورچوں میں اس آمر کے خلاف برسرپیکار ہے؛ جس کے ڈر سے پاکستان کے اکثر سیاستدان خاموشی میں ڈوب چکے ہیں۔‘‘
اس اکبر بگٹی کی موت ابھی تک معمہ ہے؛ جس کی گولیوں سے چھلنی نعش کو دکھانے کے بجائے میڈیا میں صرف اس کا چشمہ اور اس کی گھڑی دکھائی گئی۔
اس کے قتل کے خلاف سب سے بڑی احتجاجی آواز مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی تھی۔وہ میاں نواز شریف جس نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے پاکستان میں نئی تاریخ بنائی ہے۔
چودھری شجاعت تو اکبر بگٹی کو اپنا محسن مانا کرتا تھا مگر اس کے بہیمانہ قتل پر وہ استعفی کااعزاز بھی حاصل نہیں کرسکا۔ مگر میاں نواز شریف بگٹی قتل کیس کی تحقیق کے سلسلے میں فریادی بن کر اس بلوچستان کا دل جیت سکتے ہیں؛ جو اس وقت ایک نہیں بلکہ بہت سارے حوالوںسے سیاسی فوکس میں آ گیا ہے۔
وہ بلوچستان جو نہیں بولتا۔ مگر وہ خامو ش بھی نہیں ہے۔وہ کیا سوچ رہا ہے ؟معلوم نہیں۔ مگر وہ سن رہا ہے اس شیر کی دھاڑ؛ جو پہاڑوں میں تب تک دفن نہیں ہو سکتی جب تک اپنے قاتل کے گردن میں اپنے تیز دانت پیوست نہیں کرتی۔
انسان پیدا ہی اس لیی ہوتے ہیں کہ مر جائیں۔ مگر آوازیں نہیں مرتیں۔اور خاص طور ایسی آوازیں؛ جو تاریخ کے سنکھ میں جنگ کا گیت بن کر گونجتیں ہیں۔
تاریخ کے کارٹونوں جیسے احمق حکمران حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’کہ اس آواز کے ساتھ تو افراد ہی نہیں؛ یہ آواز کیا کر سکتی ہے!!‘‘۔
مگرمعتبر کتابوں میںلکھا ہوا ہے کہ’’ آواز ہی سب کچھ ہے۔ وہ آواز جس سے پہلی تخلیق بھی ہوتی ہے اور آخری تخریب بھی!‘‘